مذہب کے نام پر خون — Page 278
۲۷۸ مذہب کے نام پرخون تار امریکہ کی پر کار اور بلا کی متحرک انگلیوں سے بندھے ہوئے ہیں۔یہ چیز ایک دھما کہ خیز صورت حال کو جنم دینے کا موجب بنی۔یہ صورتِ حال ایک ایسے انقلاب کے لئے ساز گار تھی جو نفرت و حقارت کی بھسم کر دینے والی آگ کے نتیجہ میں برپا ہوتا ہے۔اس صورت حال کا آیت اللہ خمینی نے بھر پور فائدہ اٹھایا۔اپنے لائے ہوئے انقلاب کو ایک مخصوص رنگ دینے کی غرض سے انہوں نے جو نظریہ پیش کیا وہ شیعہ اسلام سے ماخوذ تھا۔بعض باتیں اس تعلق میں غور طلب ہیں۔اول یہ کہ کیا یہ شیعہ اسلام کی محبت تھی جو امریکہ کے خلاف نفرت کو بھڑ کانے کا موجب بنی یا دیگر وجوہ کی بنا پر امریکہ کے خلاف جو نفرت بھڑک اٹھی تھی اس سے فائدہ اٹھانے کے اصل مقصد کو چھپانے کی غرض سے اسلام کے نام کو ایک ظاہری آڑ اور پردے کے طور پر استعمال کیا گیا تھا؟ اگر خمینی صاحب نے اسلام کا علم بلند نہ کیا ہوتا تو کیا کسی اور نام پر بھی انقلاب کا بر پا ہونا ممکن ہوتا؟ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ اگر خمینی صاحب نے صورتِ حال سے فائدہ نہ اٹھایا ہوتا اور اپنے انقلاب کو اسلامی رنگ نہ دیا ہوتا تو شدید نفرت کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی اس صورتِ حال سے کسی غیر مذہبی نظریے یعنی نیشنل ازم اور سائنٹیفک سوشل ازم کے بل پر بھی اسی طرح کامیابی سے فائدہ اٹھایا جاسکتا تھا اور ان غیر مذہبی نظریات پر مبنی انقلاب برپا کیا جا سکتا تھا؟ اصل بات یہ ہے کہ اُس وقت ایران میں جو قو تیں عوام پر اثر انداز ہورہی تھیں خمینی پہل کرنے میں ان پر سبقت لے گئے۔اگر دیگر قوتیں پہل کرنے سے نہ چوکتیں تو خمینی کو مات دے کر اپنا ڈنکا بجانے میں کامیاب ہو جاتیں۔اسی لئے تو ایران میں صورتِ حال انتہائی پیچیدہ اور گنجلک نوعیت کی تھی۔اشتراکیت یا بائیں بازو کے کسی اور فلسفیانہ نظریہ کی مخالفت کو انقلاب بر پا کرنے والی قوت محرکہ کا درجہ حاصل نہ تھا۔یہ درجہ تو شاہ اور اس کے خوشامدیوں کی مخالفت کے جذبۂ بے پناہ کو حاصل تھا اور یہ جذبہ برسر کار جملہ قوتوں میں یکساں طور پر موجزن تھا۔اسی لئے باہم مخالف و متضاد نظریات کی حامل قوتوں کا مقصد ایک ہی تھا اور وہ یہ کہ شاہ کی حکومت کا تختہ الٹ کر اس کے اقتدار کی ہر نشانی کو مٹا دیا جائے۔چونکہ اس امر کا امکان موجود تھا کہ انقلاب کی باگ ڈور خمینی کے ہاتھوں سے نکل کر کہیں بائیں بازو کی قیادت کے ہاتھوں میں نہ چلی جائے اس لئے خمینی صاحب کو پہل کرنے کے