مذہب کے نام پر خون — Page 267
۲۶۷ مذہب کے نام پرخون ہیں۔دیو بندیوں اور اہلِ حدیث کے نزدیک سنیوں (بریلویوں وغیرہ ) کے یہ اور اس جیسے دوسرے عقائد اور مذہبی رسوم و رواج شرک کی ذیل میں آتے ہیں۔ادھر سینیوں کا کہنا یہ ہے کہ وہابی تاریخی قبرستان جنت البقیع کو مسمار کرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کے گنبد کو بھی مسمار کرنا چاہتے تھے لیکن دنیائے اسلام میں رونما ہونے والے شدید رد عمل کے پیش نظر وہ ایسا کرنے سے باز رہے۔الغرض صحابہ کی قبروں، مقابر اور قبوں وغیرہ کو مسمار کر کے انہیں پیوند زمیں کرنے کی بناء پر دنیا بھر کے سنی افراد وہابیوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین و تخفیف کا الزام عائد کرتے ہیں۔بریلوی تو یہ بھی سمجھتے اور علی الاعلان اس کا اظہار کرتے ہیں کہ دیوبندی علماء مولانا محمد قاسم نانوتوی اور مولا نا اشرف علی تھانوی ختم نبوت کے منکر تھے۔چنانچہ مولا نا عبد المصطفیٰ ابوسعی محمد معین الدین شافعی ، قادری ، رضوی ، تھانوی اپنے ایک کتابچہ بعنوان ” دیوبندی مولویوں کا ایمان میں ان کے ایک مستند قول کا حوالہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں:۔مسلمانو ! دیکھو اس ملعون ، نا پاک ، شیطانی قول نے ختم نبوت کی کیسی جڑ کاٹ دی ہے۔۔اب یہ ملاحظہ فرمائیے کہ مولوی قاسم نانوتوی منکر ختم نبوت ہے اور منکرین ختم نبوت کے حق میں مولوی رشید احمد ومولوی خلیل احمد وغیر ہم " وہابیہ نے کفر کے فتوے دیئے بلے، تحفظ ناموس رسالت کے نام پر بریلویوں اور دیو بندیوں کے درمیان ہونے والے مناظروں اور بحثوں میں شرم و حیا اور شرافت کی وہ مٹی پلید ہوئی ہے اور دونوں طرف سے ایسی غیر شائستہ، سوقیانہ اور بازاری زبان استعمال ہوتی رہی ہے کہ اس کا ہلکے سے ہلکا نمونہ پیش کرنا بھی طبائع پر گراں گزرے بغیر نہیں رہتا۔شورش کا شمیری نے جو دیوبندی مکتب فکر کے زبردست حامی تھے ” کا فرساز ملاں“ کے نام سے ایک کتابچہ شائع کیا۔اس میں شورش نے لکھا کہ جو کوئی دیو بند کے عظیم لیڈر کو کافر قرار دیتا ہے وہ کذاب ہے۔اس کتابچہ میں اس کے علاوہ اور بہت کچھ لکھا گیا ہے اور بریلوی علماء کو بے نقط سنائی گئی ہیں۔انہیں دین فروش قرار دے کر لکھا ہے کہ دین فروشی ہی ان کا اصل ذریعہ معاش لے کتابچہ دیوبندی مولویوں کا ایمان مطبوعہ لائلپور۔جامع مسجد