مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 264 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 264

مذہب کے نام پرخون ۲۶۴ اس کے سامنے اسلام قبول کرنے اور مسلمان ہونے کی خواہش کا اظہار کیا۔لیکن جب قاضی نے بخوشی اس تک اسلام کا پیغام پہنچایا اور اسلامی تعلیم کو کسی قدر وضاحت کے ساتھ بیان کرنا چاہا تو اس عیسائی راہب نے قاضی کی بات کو کاٹتے ہوئے یک دم کہنا شروع کر دیا کہ تمہارے نبی نے جھوٹا دعویٰ پیش کر کے تمہیں دھوکا دیا ہے۔خدا کی ناراضگی کا مورد بنے وہ شخص جو بہت سے بدنصیبوں کو اپنے ساتھ لے کر واصل جہنم ہوا۔قاضی نے اسے سرزنش کی اور ڈانٹتے ہوئے اس سے پوچھا کیا تو نشہ میں ہے؟ راہب نے جواب دیا ”میرے ہوش و حواس بالکل ٹھیک ہیں میں فاتر العقل نہیں ہوں مجھے موت کی سزا دی جائے۔قاضی نے اسے موت کی سزا نہیں دی بلکہ جیل بھجوا دیا۔ساتھ ہی اندلس کے حکمران عبد الرحمن الثانی سے اجازت طلب کی کہ اسے مخبوط الحواس قرار دے کر رہا کر دیا جائے۔“۔سلطنت عثمانیہ کے مفتی اعظم شیخ الاسلام ابوالسعو د آفندی نے سلطان سلیمان ذی شان کے عہد حکومت میں سزائے موت کی اجازت ضرور دی تھی لیکن انہوں نے اس سزا کو اس امر کے ساتھ مشروط کیا تھا کہ اس سزا کا مستوجب صرف وہ شخص ہو گا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں علی الاعلان بار بار گستاخی کرنے کا عادی ہو۔شیخ الاسلام نے اس امر پر باصرار زور دینے کے لئے کہ کسی کے خلاف موت کی سزا کا حکم لگانا معمولی بات یا ہنسی کھیل نہیں ہے عام مروجہ طریق سے ہٹ کر اسے کڑی شرط کے ساتھ مشروط کرنا ضروری خیال کیا۔وہ صاف اور واضح طور پر چاہتے یہ تھے کہ بات بات پر بغض و عناد پر بنی قانونی چارہ جوئی کو روز مرہ کا معمول بنانے والے غیر سنجیدہ طریق عمل سے بہر طور اجتناب کیا جائے۔اسی لئے انہوں نے یہ قطعی حکم ساتھ لگایا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کسی ملزم کو محض ایک یا دو آدمیوں کے کہنے پر عادی مجرم قرار نہیں دیا جاسکتا۔کسی کا عادی دی سٹوری آف سویلیز یشن“ مصنفہ ول ڈیورنٹ پبلشر سائمن اینڈشسٹر مطبوعہ ۱۹۵۰ء جلد چہارم صفحه ۳۰۱ THE STORY OF CIVILISATION VOL۔4 P۔301 SIMON AND SHUSTER NEWYORK 1950