مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 263 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 263

۲۶۳ مذہب کے نام پرخون اس طرح ایک کافر کا بدلہ لینے کی خاطر ایک مومن کو قتل کر بیٹھوں اور دوزخ کا مستحق بن جاؤں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہیں ، میں تو ان کے ساتھ نرمی کا سلوک کرنا چاہتا ہوں اور جب تک وہ ہمارے ساتھ ہیں میں ان کی مصاحبیت کو برقرار رکھنے کے حق میں ہوں۔“ یہی وجہ ہے اگر چہ بعد کے زمانوں میں بعض اسلامی ملکوں میں اہانت رسول کا ارتکاب کرنے والوں کے لئے موت کی سزا کا نفاذ بھی عمل میں آیا تا ہم مسلمان حکمران اس جرم کے ارتکاب میں موت کی سزا دینے سے گریزاں رہتے تھے۔خاص طور پر ایسی صورت میں کہ جب بعض اہانت کرنے والے اس امر کے خواہشمند ہوتے تھے کہ انہیں موت کی سزا دی جائے تاکہ وہ اپنے ہم مذہبوں میں شہید شمار ہوسکیں، وہ موت کی سزا قطعا نہیں دیتے تھے۔مسلمان حکمران اچھی طرح جانتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی ، دیگر منافقین اور یہودیوں کے ساتھ اس معاملہ میں بالعموم نرم سلوک ہی روا رکھا اس لئے مسلمان حکمران بھی اس بارہ میں سختی سے پہلو تہی کرنے کو ہی ترجیح دیتے تھے۔اسپین کے شہر قرطبہ میں ۸۵۰ اور ۸۵۹ عیسوی کے درمیانی عرصہ میں بعض جنونی قسم کے جو شیلے اور کٹر عیسائیوں نے ایولو جیس EULOGIUS نامی ایک شخص کی سر براہی میں اپنے آپ کو ایک گروپ کی شکل میں منظم کر لیا تھا۔اس گروپ کے اراکین نے عمد ایہ وطیرہ اختیار کر رکھا تھا کہ وہ جان بوجھ کر علی الاعلان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتے اور بڑی دیدہ دلیری سے آپ کی توہین کے مرتکب ہوتے۔اس طرز عمل سے غرض ان کی یہ ہوتی تھی کہ وہ موت کو گلے لگا کر اور اس طرح شہادت کا رتبہ پا کر عیسائیوں میں احترام کی نظر سے دیکھے جائیں۔قرطبہ کے مسلمان قاضی ان کی یہ خواہش پوری نہ ہونے دیتے۔وہ انہیں اس جرم میں قید کی سزا دے دیا کرتے تھے۔مشہور امریکی مورخ ول ڈیورینٹ WILLDURENT نے ایسے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے:۔قرطبہ کا آئزک ISSAC نامی ایک عیسائی راہب ایک قاضی کے پاس گیا اور ل ابن ہشام واقعات غزوہ بنی المصطلق