مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 259 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 259

۲۵۹ مذہب کے نام پرخون قرآن مجید نے مختلف مذاہب و مسالک کے ماننے والوں کے درمیان باہمی خیر سگالی پر زور دیا ہے۔اس کا منشاء یہ ہے کہ جملہ اہلِ مذاہب ایک دوسرے کے معبودوں اور بزرگوں کو برا بھلا نہ کہیں اور از روئے اخلاق ایک دوسرے کی دل آزاری سے بچیں۔چنانچہ قرآن مجید فرماتا ہے :- ولا تسبوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسْبُوا اللَّهَ عَدُوا بِغَيْرِ عِلْمٍ كَذَلِكَ زَيَّنَا لِكُلِ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ مَرْجِعُهُمْ فَيُنَتَهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الانعام: ١٠٩) ترجمہ : اور تم انہیں جنہیں وہ اللہ کے سوا ( دعاؤں میں ) پکارتے ہیں گالیاں نہ دو۔وہ دشمن ہو کر جہالت کی وجہ سے اللہ کو گالیاں دیں گے۔اس طرح ہم نے ہر ایک قوم کے لئے اس کے عمل خوبصورت کر کے دکھائے ہیں۔پھر انہیں اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے جس پر وہ انہیں اس کی خبر دے گا جو وہ کرتے تھے۔کسی کے لئے احترام ، عزت و توقیر اور محبت کے جذبات کا تعلق براہ راست دل سے ہوتا ہے۔رہا جبر ، سو اس سے دوسروں کے منہ تو بند کئے جاسکتے ہیں اور دہشت بھی پھیلائی جاسکتی ہے لیکن اس کے نتیجہ میں محبت کی بجائے گستاخی اور بے ادبی کے جذبات ہی جنم لیتے اور پنپتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ دل سے تعلق رکھنے والے معاملات میں قرآن مجید نے مثبت پہلو پر زور دیا ہے۔جہاں تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کا تعلق ہے قرآن فرماتا ہے:۔إنَّ اللهَ وَمَلَبِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ، يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلَّمُوا تَسْلِيمًا - إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينَا - وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَ الْمُؤْمِنَتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَ إِثْمًا مُّبِينًا - (الاحزاب : ۵۷ تا ۵۹) ترجمہ:- اللہ یقیناً اس نبی پر اپنی رحمت نازل کر رہا ہے اور اس کے فرشتے بھی (یقیناً اس کے لئے دعائیں کر رہے ہیں پس ) اے مومنو! تم بھی اس نبی پر درود بھیجتے اور ان کے لئے دعائیں کرتے رہا کرو اور (خوب جوش و خروش سے ) ان کے لئے سلامتی مانگتے رہا کرو۔وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف دیتے ہیں اللہ ان کو اس دنیا میں اور