مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 253 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 253

۲۵۳ مذہب کے نام پرخون کائنات کے لئے رحمت وہ اپنی عیاری کی وجہ سے خوب جانتے تھے کہ مسلمانوں کے جذبات کسی موضوع پر اس قدر آسانی سے اور تیزی و تندی سے برانگیختہ نہیں کئے جاسکتے اور ان کے غیظ و غضب کو بیدار نہیں کیا جاسکتا جس قدر رسول پاک صلعم کی حقیقی یا خیالی تو ہین پر کئے جاسکتے ہیں لہذا انہوں نے یہ ظاہر کرنا شروع کیا کہ ان کی سرگرمیوں کا مقصد یہ ہے کہ رسول پاک کی نبوت کی حفاظت کی جائے اور آپ کی ناموس پر احمدیوں کے حملوں کا مقابلہ کیا جائے۔یہ چال کامیاب ہوگئی اور حاضرین کی کثیر تعداد ان کے جلسوں میں شریک ہونے لگی اور چونکہ بعض احراری مقرر الفاظ وفقرات کے انتخاب اور تشبیہہ و استعارہ کے استعمال میں بڑے ماہر واقع ہوئے ہیں اور اپنی تقریروں میں طنز و ظرافت کے چھینٹے بھی خوب دیتے ہیں (خواہ وہ ظرافت کتنی ہی مبتنذل کیوں نہ ہو ) لہذا وہ روز بروز مقبول عام ہونے لگے۔“ (جسٹس منیر ) اہانت انبیاء کا سلسلہ ایک بہت قدیم سلسلہ ہے۔یہ اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ خود بعثت انبیاء کا سلسلہ قدیم ہے کیونکہ کوئی ایک نبی بھی ایسا مبعوث نہیں ہوا کہ جس کے ساتھ اس کی قوم نے استہزاء و اہانت کا سلوک روا نہ رکھا ہو حتی کہ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم بھی جنہیں اللہ تعالیٰ نے رَحْمَةٌ لِلعلمین قرار دے کر پوری کائنات کے لئے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا اپنی قوم کی طرف سے استہزاء و اہانت کا نشانہ بنے۔آپ کے ساتھ نہ صرف آپ کی زندگی کے مکی دور میں استہزاء کا سلوک کیا گیا اور ہدف ملامت بنا یا گیا بلکہ مدینہ میں بھی اس کا سلسلہ جاری رہا اور اس امر کے باوجود جاری رہا کہ وہاں آپ استہزاء و اہانت کرنے والوں کو سزا دینے کی پوری لے منیر کمیشن رپورٹ اردو صفحہ ۲۷۶