مذہب کے نام پر خون — Page 243
۲۴۳ مذہب کے نام پرخون روشنی ڈالی ہے۔ان انبیائے کرام میں سے بعض کے اسماء اور ان کے جہاد کے ذکر پر مشتمل آیات کے حوالے یہ ہیں :۔حضرت ابراہیم (سورۃ الانعام آیات ۷۵ تا ۷۹، سورۃ مریم آیت ۴۷، سورۃ الانبیاء آیات ۶۹-۶۱-۵۹-۵۳ ۷۰ ، سورۃ الصفت آیات ۸۹ تا ۹۱، ۹۸) حضرت الیاس (سورۃ الصفت آیات ۱۲۶ تا ۱۲۷) حضرت لوط (سورۃ الشعراء آیات ۱۶۶ تا ۱۶۸، سورۃ النمل آیت ۵۷، سورۃ الحجر آیت اے ) حضرت نوح (سورۃ الاعراف آیت ۶۰ ، سورۃ یونس آیت ۷۲ ، سورۃ ہود آیات ۲۶، ۲۷، سورۃ الشعراء آیت ۱۱۷ ،سورۃ نوح ۲ تا ۲۱) حضرت موسیٰ (سورۃ الاعراف آیات ۱۰۶،۱۰۵ - ۱۲۴ تا ۱۲۷ ، سورۃ یونس آیات ۷۶ تا ۷۹، سورۃ بنی اسرائیل آیات ۱۰۲، ۱۰۳ سورة طه آیات ۴۴، ۴۵ - ۵۰ تا ۵۳۔سورۃ الشعراء آیات ۱۹ تا ۳۴) حضرت عیسی ( سورة آل عمران آیات ۵۲ تا ۵۶ ، سورۃ المائدہ آیت ۱۸ ،سورۃ مریم آیت ۳۷، سورة الزخرف آیت ۶۵) ان جملہ انبیاء علیہم السلام کی تمام تر جدو جہد کس خاطر تھی؟ دراصل انبیاء علیہم السلام کے مخالفین کا ایک ادعا ہمیشہ یہ ہوا کرتا تھا کہ انبیاء کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ ان کے ساتھیوں اور دیگر ہمعصر لوگوں کو مذہب تبدیل کرنے کی ترغیب دلائیں۔وہ اپنے مخالفین کے اس سراسر ناروا اور ناواجب ادعا کے خلاف جدو جہد کرنے کو اپنا فرض سمجھتے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص کا یہ حق ہے کہ وہ جو مذہب چاہے اختیار کرے۔اسی طرح اگر کوئی شخص اپنے مذہب کی طرف سے محبت کا پیغام پر امن طریق پر پھیلانے کی کوشش کرتا ہے تو کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ ایسی پرامن مساعی میں طاقت کے بل پر زبر دستی مزاحم ہو اور ان مساعی کے سلسلہ کو منقطع کرنے پر نکل جائے۔انبیاء علیہم السلام کے اس انتہائی معقول اور انسانیت دوستی کے آئینہ دار موقف پر ان کے مخالفین کا رد عمل ہمیشہ ہی بہت نامعقول اور ہٹ دھرمی پر مبنی ہوا کرتا تھا۔وہ انبیاء علیہم السلام کے انتہائی معقول اور سر تا پا جائز