مذہب کے نام پر خون — Page 240
۲۴۰ مذہب کے نام پرخون لائے اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔یہ لوگ ایسے ہیں کہ ان کی سزا یہ ہے کہ ان پر اللہ اور فرشتوں کی اور لوگوں کی سب ہی کی لعنت ہو۔وہ اس میں رہیں گے۔نہ تو ان پر سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں ڈھیل دی جائے گی ،سوائے ان لوگوں کے کہ جو اس کے بعد توبہ کر لیں اور اصلاح کرلیں اور اللہ یقیناً بہت سننے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔جو لوگ ایمان لانے کے بعد منکر ہو گئے ہوں اور کفر ہی کی حالت میں مر گئے ہوں ان میں سے کسی سے زمین بھر سونا بھی ، جسے وہ فدیہ کے طور پر پیش کرے، ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ان لوگوں کے لئے دردناک عذاب ( مقدر ) ہے اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ان آیات کریمہ سے بھی یہ امر ظاہر وباہر ہے کہ ایک انسان کسی دوسرے انسان کو اس کے ارتداد کی بناء پر کوئی سزا نہیں دے سکتا۔”وہ اس میں ہی رہتے چلے جائیں گے“ کے الفاظ سے واضح طور پر اگلے جہان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے یعنی یہ کہ اسلام سے ارتداد اختیار کرنے والے کو اگلے جہان میں سزا ملے گی نہ کہ اس جہان میں۔خیالی گھوڑے دوڑا کر کتناہی کھینچ تان سے کام لیا جائے کوئی سمجھدار انسان مرتد پر اللہ کی لعنت“ کے ذکر سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کر سکتا کہ اسے اس امر کی اجازت مل گئی ہے کہ جو بھی اس کی اپنی نگاہ میں مرتد ہو اسے وہ قتل کر دے۔اس موضوع سے متعلق جملہ دیگر آیات کی طرح ان آیات میں بھی مرتد کو قتل کی سزا دینے کا سرے سے کوئی ذکر نہیں ہے۔اگر مرتد کو قتل کی سزا دینا یا بالفاظ دیگر دوسروں سے اسے قتل کی سزا دلوانا مقصود ہوتا تو معین الفاظ میں اس سزا کا اسی طرح ذکر کیا جاتا جس طرح تمام دوسری حدود کے ضمن میں قرآن میں واضح طور پر معین سزاؤں کا ذکر کیا گیا ہے۔برخلاف اس کے قرآن مجید نے تو ایسے مرتدوں کے لئے تو بہ واستغفار اور ان کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے معافی کے امکان کا ذکر کیا ہے۔یعنی اگر ایسے مرتد تو بہ کر کے پھر اسلام قبول کر لیں تو خدا تعالیٰ انہیں معاف کر دے گا۔سوچنے والی بات یہ ہے کہ کوئی مرتد جسے سزا کے طور پر قتل کردیا گیا ہو اس دنیا میں تو بہ کر کے تلافی مافات کس طرح کر سکتا ہے؟ ظاہر ہے جسے قتل کر دیا گیا ہو اس کے لئے تو یہ ممکن ہی نہیں رہتا کہ وہ تو بہ واستغفار کے ذریعہ تلافی کر سکے۔تلافی کے امکان کا ذکر صاف