مذہب کے نام پر خون — Page 220
۲۲۰ مذہب کے نام پرخون اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَّمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلًا (النساء: ۱۳۸ ) اور جولوگ ایمان لائے اور پھر انہوں نے انکار کر دیا ، پھر ایمان لائے اور پھر ا نکار کر دیا، پھر کفر میں اور بھی بڑھ گئے اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں کرے گا اور نہ انہیں نجات کا کوئی راستہ دکھائے گا۔وَمَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولُ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَأَبِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَ مَنْ يَنْقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا ۖ وَسَيَجْزِى الله الشکرِينَ (آل عمران:۱۴۵) اور محمد صرف ایک رسول ہے۔اس سے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں۔پس اگر وہ وفات پا جائے یا قتل کیا جائے تو کیا تم اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ جاؤ گے؟ اور جو شخص اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ جائے وہ اللہ کا ہر گز کچھ نقصان نہیں کر سکتا اور اللہ شکر گزاروں کو ضرور بدلہ دے گا۔قرآن مجید کی مندرجہ بالا آیات سے ان کے مفہوم کو کھینچ تان کر کسی لحاظ سے بھی یہ نہیں سمجھا جاسکتا کہ ان میں مرتدوں کے لئے قتل کی سزا کا ذکر کیا گیا ہے۔سورۃ التوبہ کی بعض متعلقہ آیات عقیدہ قتل مرتد کے حامیوں کی طرف سے اس تلاش میں کہ قرآن مجید کی کم از کم ایک آیت ہی ایسی مل جائے کہ جس سے یہ ثابت کرنے میں مددمل سکے کہ ارتداد کی سزا موت ہے کچھ کم دوڑ دھوپ اور سرگرمی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔تلاشِ بسیار کے بعد ان کی طرف سے قرآن مجید کی نویں سورۃ یعنی سورۃ التوبہ کی آیات ۱۲، ۱۳ کا سہارا لینے کی کوشش کی گئی ہے۔یہ دکھانے کے لئے کہ ان کی یہ کوشش بھی کس قدر بے نتیجہ ثابت ہوئی ہے ہم اس سورۃ کی آیات ۳ تا ۱۴ ذیل میں درج کرتے ہیں۔یہ آیات اپنا مفہوم خود واضح کر رہی ہیں۔ان سے ہر اس شخص کی کوششیں بری کار ثابت ہوئے بغیر نہیں رہتیں جو ان سے من مانا کوئی مفہوم اخذ کر کے ان کے برخلاف کچھ اور ثابت کرنا چا ہے۔