مذہب کے نام پر خون — Page 216
۲۱۶ مذہب کے نام پرخون موجود تھا۔بنو امیہ کے دور اقتدار کے آخری حصہ میں یہ نظریہ معرض وجود میں آیا اور پھر عباسیوں کے دور میں یہ مسلسل پھلتا پھولتا رہا اور اس طرح زیادہ مضبوطی سے جڑ پکڑتا چلا گیا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ عباسی حکمران اسلام کے دشمنوں ہی کے خلاف نہیں بلکہ خود اپنے لوگوں کے بھی خلاف طاقت استعمال کرنے اور انہیں دبا کر رکھنے کے خواہاں تھے۔اپنے زیر اثر علماء سے وہ کبھی کبھار ہی نہیں بلکہ اکثر اور بار بار طاقت کے استعمال کے حق میں فتوے حاصل کیا کرتے تھے۔پس اسلام میں جبر کا نظریہ خلافت راشدہ کے بعد کے زمانہ میں علی الخصوص بغداد کی حکومتوں کے انداز حکمرانی ، ان کے مخصوص طرز عمل اور پالیسیوں کی وجہ سے پیدا ہوا اور انہی کے دور میں اس نے جڑ پکڑی اور خوب پھولا پھلا۔مغرب کے اہل علم جو بیرونی طور پر ہی نہیں بلکہ دور بیٹھ کر اسلام کے بارہ میں تحقیق کر رہے تھے غلطی سے یہ سمجھ بیٹھے کہ جبر کا نظریہ ایک اسلامی نظریہ ہے۔اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو جبر کی تعلیم دیتا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سرے سے اسلامی نظریہ ہے ہی نہیں۔یہ بعد میں قائم ہونے والی بعض مسلمان حکومتوں کو اپنی مخصوص روش اور طرز عمل کے جواز کے طور پر اور اس کے لئے بنیاد فراہم کرنے کی خاطر وضع کیا گیا تھا۔یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ مسلمان ملکوں میں یہ نظریہ ایک ایسے دور میں رائج ہوا کہ جب ساری دنیا میں عقیدے کی اشاعت اور اثر و رسوخ کے پھیلاؤ کے لئے طاقت کے استعمال کو جائز سمجھا جاتا تھا اور ایسا سمجھنے سے کوئی قوم بھی مستی بی تھی۔بہر حال یہ بات واضح ہے کہ یہ الزام کہ اسلام اپنے عقائد اور نظریات کی اشاعت کے لئے طاقت کے استعمال کا حامی ہے اور اپنے متبعین کو اس کی ترغیب دلاتا ہے اسلامی تعلیمات کے اصل ماخذوں کے براہ راست مطالعہ پر مبنی نہیں ہے بلکہ بعد میں قائم ہونے والی بعض مسلمان حکومتوں کے طرز عمل کے جائزے کے بعد اسے گھڑا گیا ہے۔اب جبکہ ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے جس میں احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سمیت جملہ اسلامی لٹریچر کھلے عام دستیاب ہے اور دنیا کی بہت سی زبانوں میں قرآن مجید کے تراجم بھی شائع ہو کر منظر عام پر آچکے ہیں اور ان تمام ماخذوں تک مغربی مستشرقین کو براہِ راست رسائی حاصل ہے ان کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اس الزام کو بار بار