مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 200 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 200

مذہب کے نام پرخون عبد اللہ بن سعد کو کبھی معاف نہ فرماتے۔ایسی سزاؤں کے متعلق جو قرآنی حدود کا درجہ رکھتی ہیں سفارش کے بارہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصولی موقف کا ایک واقعہ سے بخوبی اندازہ ہوسکتا ہے۔وہ واقعہ یہ ہے کہ بنی مخزوم کی ایک عورت پر چوری کا الزام ثابت ہو گیا۔جب اسامہ بن زید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس کی سزا معاف کئے جانے کی سفارش کی تو آپ نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کیا تم ایک ایسی سزا معاف کئے جانے کی سفارش کرتے ہو جو خدا کی مقرر کردہ ہے۔بخدا اگر فاطمہ بنت محمد کبھی چوری کی مرتکب ہوتی تو میں یقیناً اس کا ہاتھ بھی کٹوا دیتا۔جہاں تک عبد اللہ بن خطل کا تعلق ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک انصاری کے ہمراہ ایک علاقہ میں زکوۃ کی وصولی کے لئے بھیجوایا تھا۔اُس انصاری کو اُس کی خدمت کے لئے ساتھ بھجوایا گیا تھا۔جب راستہ میں ان دونوں نے ایک جگہ قیام کیا تو عبد اللہ بن خطل نے سونے سے پہلے اس انصاری کو حکم دیا کہ وہ ایک بکری ذبح کر کے اس کے لئے کھانا تیار کرے۔جب عبد اللہ بن خطل نیند سے بیدار ہوا تو اس نے دیکھا کہ اس انصاری نے نہ تو بکری ذبح کی ہے اور نہ کھانے کا کوئی اور انتظام ہی کیا ہے اس پر وہ بہت غضبناک ہوا۔وہ اس انصاری کو قتل کر کے وہاں سے بھاگ نکلا اور قریش مکہ سے جاملا اور ساتھ ہی اسلام سے اپنے مرتد ہونے کا اعلان بھی کر دیاہے۔وہ اس انصاری مسلم کے قتل کی پاداش میں سعید بن حریث المخزومی اور ابو برزہ اسلمی کے ہاتھوں قتل ہوا۔ابن خطل کی گانے بجانے والی دو باندیوں میں سے ایک کو ہجویہ اشعار گا گا کر لوگوں میں اشتعال پھیلانے کے جرم میں قتل کیا گیا اور دوسری لڑکی کو کسی کی طرف سے سفارش پیش ہونے پر بعد میں معافی دے دی گئی ہے۔اب رہا الحویرث بن نقیذ کا معاملہ۔شخص بہتبار بن الاسود بن المطلب بن اسد کی اس پارٹی ے ابن ہشام کی کتاب سیرۃ رسول اللہ صفحہ ۸۱۹ ابن ہشام کی کتاب سیرۃ رسول اللہ صفحہ ۸۱۹ سے ابن ہشام کی کتاب سیرۃ رسول اللہ صفحہ ۸۳۰