مذہب کے نام پر خون — Page 184
۱۸۴ مذہب کے نام پرخون دین سے اُلٹے پاؤں پھر جانے سے متعلق اسلامی تعلیم قال الليل صل الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اكتبوا في من تلفظ بِالإِسْلام میرے پاس مردم شماری کے طور پر ان تمام لوگوں کے نام لکھ کر لاؤ جو اپنے آپ کو " مسلمان کہتے ہوں۔قرون وسطی کی مسیحیت میں ارتداؤ سے جو مخصوص مفہوم لیا جاتا تھا اور جسے اس زمانہ میں اسلام کے نام پر مولانا مودودی نے بڑی وضاحت اور شد ومد سے پیش کیا ہے جبکہ عربی زبان میں ارتداد کے اس مخصوص مفہوم کے لئے سرے سے کوئی لفظ ہی موجود نہیں ہے۔اس میں شک نہیں کہ ابتدائی زمانہ کے بعض مسلم فقہاء کے نزدیک اسلام سے اُلٹے پاؤں پھر جانا سزائے موت کا مستوجب بنانے والا جرم تھا لیکن ان فقہاء کے نزدیک مسلم کی تعریف اتنی فراخ دلی کی آئینہ دار تھی کہ جو شخص بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتا اسے اس تعریف کی رو سے دین سے الٹے پاؤں پھر جانے والا قرار دیا ہی نہیں جا سکتا تھا۔خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری راہنمائی کے لئے ہمیں مسلم کی دو تعریفیں عنایت فرمائی ہیں۔پہلی تعریف کی رو سے آپ نے مدینہ کی پہلی مردم شماری کے وقت ہدایت فرمائی کہ میرے پاس مردم شماری کے طور پر ان تمام لوگوں کے نام لکھ لاؤ جن کا ہر فرد اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو۔ایک اور موقع پر آپ نے فرمایا جو شخص بھی ہمارے قبلہ کی طرف رُخ کر کے ہماری طرح نماز پڑھتا ہے اور ہمار از بیجہ کھاتا ہے وہ مسلمان ہے۔اس کے جان و مال کی حفاظت کے اللہ اور ۲۰۱ صحيح البخارى كتاب الجهاد باب كتابة الامام الناس