مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 180 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 180

۱۸۰ مذہب کے نام پرخون ہم نے اس عشق میں کیا کھویا ہے کیا پایا ہے!!! ۱۹۵۳ ء کا سرخ دور گزر گیا اور کتنے ہی بے کسوں کے خون نے احمدیت میں ایک نیا رنگ بھر دیا اور اس کی رگوں میں قربانیوں کا تازہ اور پاکیزہ خون دوڑنے لگا۔اس دور میں احمدیوں کا حال کچھ اسی طرح تھا جس طرح ایک بچہ بھیانک خطرات سے دہشت زدہ ہو کر اپنے بازو کھولے ہوئے ماں کی طرف بے محابا لپکتا ہے۔پس وہ بھی اپنے رحمن و رحیم خدا کی آغوش میں پناہ لینے کے لئے اس کی طرف دوڑے اور سخت گریہ وزاری کے ساتھ اس کے حضور عاجزانہ دعاؤں میں لگ گئے۔بہت سے ایسے کمزور جو کبھی نمازوں میں بھی غفلت کر جاتے تھے اپنے بستروں سے راتوں کو اٹھ اٹھ کر سجدوں میں گرنے لگے اور اپنی سجدہ گاہوں کو خون کے آنسو رو رو کر تر کر دیا یہاں تک کہ آسمان سے ان پر سکینت نازل ہوئی اور خدا ان کے دلوں میں اتر آیا اور ہر آن ان کے ساتھ رہنے لگا۔پس وہ ہر خطرے سے بے خطر ہو گئے اور ہر خوف ان کے دلوں سے جاتا رہا۔انہوں نے وہ سب کچھ پالیا جس کے حصول کے لئے بنی آدم پیدا کئے گئے تھے۔حتی کہ وہ تہی دست بھی جن کے گھر لوٹے گئے تھے اور عمر بھر کے جمع شدہ اثاثے چھینے گئے تھے ایمان و عرفان کی دولت سے مالا مال ہو کر اس سودے پر خوش ہو گئے۔وہ جانتے تھے کہ چند حقیر پیسوں کے بدلہ میں انہوں نے وہ دولت پائی ہے جو قارون کے خزانوں کو بھی میسر نہ تھی۔وہ جانتے تھے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں فقر اور غناء کا جو مقام انہیں نصیب ہوا ہے وہ قیصر و کسری کے مقدر میں بھی نہ تھا! انہوں نے بخوشی اس راہ میں جانیں دیں، چھرے ان کے سینوں میں بھونکے گئے ، وہ آگ