مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 176 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 176

مذہب کے نام پرخون دائرہ اسلام سے خارج قرار دیں گے اور اگر وہ لوگ مرتد کی تعریف میں آئیں گے یعنی انہوں نے اپنے مذہبی عقائد ورثے میں حاصل نہ کئے ہوں گے بلکہ خود اپنا عقیدہ بدل لیا ہو گا تو مفتی صاحب ان کو موت کی سزا دیں گے۔جب دیوبندیوں کا ایک فتویٰ (13۔EX۔D۔E) جس میں اثنا عشری شیعوں کو کافر قرار دیا گیا ہے عدالت میں پیش ہوا تو کہا گیا کہ یہ اصلی نہیں بلکہ مصنوعی ہے لیکن جب مفتی محمد شفیع نے اس امر کے متعلق دیو بند سے استفسار کیا تو اس دار العلوم کے دفتر سے اس فتویٰ کی ایک نقل موصول ہو گئی جس پر دار العلوم کے تمام اساتذہ کے دستخط ثبت تھے اور ان میں مفتی محمد شفیع صاحب کے دستخط بھی شامل تھے۔اس فتوے میں لکھا ہے کہ جولوگ حضرت صدیق اکبر کی صاحبیت پر ایمان نہیں رکھتے ، جو لوگ حضرت عائشہ صدیقہ کے قاذف ہیں اور جو لوگ قرآن میں تحریف کے مرتکب ہوئے ہیں وہ کافر ہیں۔مسٹر ابراہیم علی چشتی نے بھی جنہوں نے مطالعہ کیا ہے اور اپنے مضمون سے باخبر ہیں اس رائے کی تائید کی ہے ان کے نزدیک شیعہ اپنے اس عقیدہ کی وجہ سے کافر ہیں کہ حضرت علی نبوت میں ہمارے رسول پاک کے شریک تھے۔مسٹر چشتی نے اس سوال کا جواب دینے سے انکار کیا ہے کہ اگر کوئی سنی اپنا عقیدہ بدل کر شیعوں کا ہم خیال ہو جائے تو آیا وہ اس ارتداد کا مرتکب ہو گا جس کی سزا موت ہے؟ شیعوں کے نزدیک تمام سنی کافر ہیں اور اہل قرآن یعنی وہ لوگ جو حدیث کو غیر معتبر سمجھتے ہیں اور واجب التعمیل نہیں مانتے متفقہ طور پر کافر ہیں اور یہی حال آزاد مفکرین کا ہے۔اس تمام بحث کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ شیعہ سنی ،دیوبندی ، اہل حدیث اور بریلوی لوگوں میں سے کوئی بھی مسلم نہیں اور اگر مملکت کی حکومت ایسی جماعت کے ہاتھ میں ہو جو دوسری جماعت کو کا فر مجھتی ہے تو جہاں کوئی شخص ایک عقیدہ کو بدل کر دوسرا اختیار کرے گا اُس کو اسلامی مملکت میں لازماً موت کی سزادی جائے گی اور جب یہ حقیقت مد نظر رکھی جائے کہ ہمارے سامنے مسلم کی تعریف کے معاملے میں کوئی دو عالم بھی متفق الرّائے نہیں ہو سکے تو اس عقیدے کے نتائج کا