مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 168 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 168

۱۶۸ مذہب کے نام پرخون شرع پیمبری بیچ کھانے کا الزام لگایا گیا ہے اور لارڈ کلائیو کا خانہ دار قرار دیا گیا ہے۔پھر آگے چل کر اسی رسالہ میں بریلویوں کو لیگ اور قائد اعظم کے دشمن کے طور پر دکھایا گیا ہے۔اس رسالہ کے علاوہ دیو بندیوں کا شائع کردہ ایک اور دو ورقہ بھی میری نظر سے گزرا ہے جس کا عنون ہے:۔دو رضا خانی فتنہ پردازوں کا سیاہ جھوٹ“ اس میں مدیر چٹان آغاشورش کاشمیری کی یہ عبارت درج ہے:- ”ہم نے ان آنکھوں کے سامنے مولانا محمد علی ، مولانا حسین احمد ( مدنی )، ابوالکلام آزاد، علامہ اقبال، مولانا ظفر علی خاں، مولانا حسرت موہانی، سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور ان کے صفات و کمالات کے دوسرے انسانوں کو بھڑووں اور دیوثوں کی اولاد کے ہاتھوں رسوا ہوتے دیکھا ہے۔“ چند سطور کے بعد فرماتے ہیں :- ” ہم رب ذوالجلال کو گواہ بنا کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ انہیں گالی دینے والے پھر وہ لوگ بھی 66 تھے جو اُن کی بیت الخلاء کی اینٹ سے بھی کمتر درجہ کے لوگ ہیں۔“ اس کے جواب میں بریلوی رسالہ ”شورش کی شورش کے صفحہ ۳ پر ایک نظم چھپی ہے جس کے چند شعر درج ذیل ہیں:۔گزری ہے اُس بازار“ ہی میں جس کی زندگی ہم کو سنا رہا ہے وہ باتیں کھری کھری“ ہاتھوں میں لے کے پرچم گستاخی رسول کرنے لگا ہے دہر پہ ظاہر شناوری جھانکا نہ اس نے اپنے گریبان میں کبھی آئی نظر نہ اس کو کبھی اپنی کافری