مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 163 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 163

مذہب کے نام پرخون بعض حقیقی خطرات گزشہ صفحات کے مطالعہ کے بعد شاید کوئی یہ خیال کرے کہ علماء کا دین میں تشدّ داور جبر کو جائز قرار دینے کا مسئلہ اور قتل مرتد کا مسئلہ یہ دونوں ایسے امور ہیں جن کا ایک چھوٹے سے مسلمان فرقہ سے تعلق ہے اور کیا فرق پڑتا ہے اگر ساٹھ کروڑ کی مسلمان آبادی میں سے چند لاکھ احمدی مرد عورتیں ، بوڑھے اور بچے تہہ تیغ کر دیئے جائیں۔کم از کم اس کے بعد باقی مسلمان تو امن اور چین کے سانس لیں گے۔مگر یہ خیال ایک واہمہ سے بڑھ کر حیثیت نہیں رکھتا اور اس زمانہ کے بہت سے علماء کی افتاد طبع سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔اگر چہ یہ درست ہے کہ ہر طاقتور غیر مسلم کے مقابل پر ان کی قوت عمل مفقود ہو جاتی ہے مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ دوسرے مسلمان فرقوں کے خلاف بھی ان کا غصہ اس آسانی سے فرو ہوسکتا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ امت کے تمام علماء ایک ہی طرز فکر کے عادی ہیں (خدا وہ وقت نہ لائے ! ) مگر مشکل یہ ہے کہ شریف غیر جانبدار آواز اکثر کمزور ہوا کرتی ہے اور یہ لوگ ہر تکلیف کے موقع سے دامن بچالیتے ہیں۔پس میں اس وقت صرف ان علماء کی بات کر رہا ہوں جواکثر فتوی بازی میں مصروف رہتے ہیں اور تکفیر جن کا دل پسند مشغلہ ہے جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے ان کے افکار اور احساسات اکثر اجتماع ضدین ہوتے ہیں۔چنانچہ ایک طرف تو قوت عمل اتنی کمزور پڑ چکتی ہے کہ جس مشکل میدان میں بھی اسلام کو جہاد کی ضرورت ہو اس سے کوسوں دور رہتے ہیں اور جہاں ضرورت نہ ہو وہاں گفتار کے غازی بن کر کود پڑتے ہیں۔چنانچہ ان جہاد کی تعلیم دینے والوں کو آپ جہاد کشمیر کے وقت سرحدوں کے قریب بھی پھٹتا نہ دیکھیں گے۔ہاں ! آپ دیکھیں گے کہ بسا اوقات عین حالت جنگ میں جبکہ مظلوم اور بے بس کشمیری مسلمانوں کو ڈوگرہ راج کے چنگل سے رہائی دلانے کے لئے سرحد