مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 146 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 146

۱۴۶ مذہب کے نام پرخون لائل پور کاٹن ملز کی ایک خوردہ فروشی کی دکان لوٹ لی گئی “۔(خدا جانے اس کے کتنے معصوم بچوں نے بھوک سے بلک بلک کر وہ رات گزاری ہو گی۔کیا یہ سب خدا تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر کیا گیا۔ناقل ) ریل کی پٹڑی توڑ دی گئی اور تین ٹرینیں ریلوے اسٹیشن کے قریب روک لی گئیں۔ریلوے سٹیشن پر دکانوں اور مسافروں کو لوٹا گیا۔ٹرین میں بعض عورتیں بے آبرو کی گئیں اور ایک کیبن مین کو بری طرح زخمی کیا گیاہے “۔اور آسمان نے سخت حیرت و استعجاب اور دکھ کے ساتھ یہ نظارہ دیکھا کہ تبلیغ اسلام کا یہ بھی ایک طریق ہے!!! اوکاڑہ بھی اس طرز ستم میں لائل پور سے کچھ پیچھے نہیں تھا جہاں :۔تین ہزار کا ایک ہجوم ریلوے سٹیشن پر پہنچا اور اس نے ڈاؤن پاکستان میل کو تین گھنٹے تک روکے رکھا۔ہجوم نے ڈبوں کی کھڑکیاں توڑ ڈالیں اور ٹرین کو روکنے والی ویکیوم کی زنجیریں توڑ ڈالیں اور مسافر عورتوں کو بے آبرو کیا گیاہے “۔ان واقعات کو نقل کرتے ہوئے جو میرے دل کی کیفیت ہے میں اسے بیان نہیں کر سکتا۔وہ الفاظ میرے قبضہ قدرت میں نہیں جو مختلف متلاطم اور متقابل جذبات کے یکجا ہونے کی وجہ سے میرے سینہ کے ہیجان کا نقشہ کھینچ سکیں مگر میں ہر منصف دل سے سوال کرتا ہوں جو دنیا کے کسی بھی مقدس رسول کی طرف منسوب ہوتا ہو کہ کیا کسی ایک رسول کی روح بھی اس تصور سے خوش ہو سکتی ہے کہ اس کے تقدس کے نام پر عورتوں کو بے آبرو کیا جائے؟۔۔۔۔۔میرے آقا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت ظلم توڑے گئے ہیں مگر شائد یہ ظلم ان سب ظلموں سے بڑھ کر ہے!!! مجھے ان عوام پر غصہ نہیں آتا جن کے ہاتھوں سے یہ ظلم سرزد ہوئے اور ان مسجدوں کے تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ صفحہ ۱۸۸ تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ صفحہ ۱۹۰