مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 129 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 129

۱۲۹ مذہب کے نام پرخون پس پاکستان کے دو منصف مزاج فاضل ترین ججوں کے فیصلہ کے مطابق جس تک وہ نہایت غور و خوض اور چھان بین کے بعد پہنچے :۔اسلام ان کے لئے ایک حربہ کی حیثیت رکھتا تھا جسے وہ کسی سیاسی مخالف کو پریشان کرنے کے لئے جب چاہتے بالائے طاق رکھ دیتے اور جب چاہتے اٹھا لیتے۔کانگرس کے ساتھ سابقہ پڑنے کی صورت میں تو ان کے نزدیک مذہب ایک نجی معاملہ تھا اور وہ نظریہ قومیت کے پابند تھے لیکن جب وہ لیگ کے خلاف صف آراء ہوئے تو ان کی واحد مصلحت اسلام تھی جس کا اجارہ انہیں خدا کی طرف سے ملا ہوا تھا۔ان کے نزدیک لیگ اسلام سے بے پرواہ ہی نہ تھی بلکہ دشمن اسلام بھی تھی۔ان کے نزدیک قائد اعظم ایک کافر اعظم تھے لے ،، پھر فرماتے ہیں :۔یہ یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ اب احراریوں نے احمدیوں کے خلاف نزاع کو اپنے اسلحہ خانہ سے ایک سیاسی حربے کے طور پر باہر نکالا اور جو واقعات اس کے بعد پیش آئے وہ اس امر کی بین شہادت ہیں کہ وہ سیاسی جماعت کی حیثیت سے نہایت فہیم و چالاک ہیں۔انہوں نے سوچا کہ اگر عوام کے جذبات کو احمدیوں کے خلاف برانگیختہ کر دیں گے تو کوئی ان کی مخالفت کی جرات نہیں کرے گا اور ان کی اس سرگرمی کی جتنی بھی مخالفت کی جائے گی اسی قدر وہ ہر دل عزیز اور مقبول عام ہو جائیں گے اور بعد کے واقعات سے یہ ثابت ہو گیا کہ ان کا یہ مفروضہ بالکل صحیح تھائے “ پس بلا شبہ یہ ثابت ہے کہ از منہ گزشتہ کی طرح ۱۹۵۳ء میں بھی جو فساد برپا کیا گیا وہ مذہب کے نام پر تو ضرور تھا مگر مذہب کی خاطر نہ تھا اور حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا پاک دین اس سے کلیہ بری الذمہ ہے۔یہاں یہ اہم سوال اٹھتا ہے کہ آخر یہ مخصوص را ہنما کس طرح ایک قلیل التعداد فرقہ کے رپورٹ تحقیقاتی عدالت صفحہ ۲۷۳،۲۷۲ رپورٹ تحقیقاتی عدالت صفحہ ۲۷۵