مذہب کے نام پر خون — Page 123
۱۲۳ مذہب کے نام پرخون رندان در میکدہ گستاخ ہیں زاہد زنہار نہ ہونا طرف ان بے ادبوں کے یہ طبقہ میں سمجھتا ہوں کہ مزید مہلت دیئے بغیر اسی وقت حکومت کے رجسٹروں میں ” کا فر“ شمار کر لیا جائے گا۔دوسرا ایک بڑا طبقہ میرے خیال میں ایسا ہو گا جو ایک سال سخت پریشانی کے عالم میں مبتلا رہنے کے بعد جز یز تو بہت ہو گا مگر آخر غیر مسلم ہونے کا اعلان کر دے گا۔یہ مؤخر الذکر طبقہ وہ ہے کہ جس کا پہلا رد عمل عام طور پر جان بچانے کے خیال کی صورت میں ظاہر ہوا کرتا ہے۔یہ وہی طبقہ ہے جس سے متعلق مودودی صاحب کو یہ خوف ہے کہ اگر فوری طور پر مرتد کی سز اقتل قرار دے دی گئی تو یہ فوراً منافق مسلمان بن جائے گا۔اب رہا میرا رد عمل تو میں ابھی سے کھول کھول کر بتا دینا چاہتا ہوں کہ اگر تو اس اعلان میں غیر مسلم“ کے الفاظ سے آپ کی مراد یہ ہے کہ کوئی مسلمان آپ کے مخصوص عقائد کو ماننے سے انکار کر دے اور آپ کے استبداد کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کے لئے ہر گز تیار نہ ہو۔اگر کفر سے یہ مراد ہے کہ کوئی محبت کرنے والا اپنے محبوب آقا کی طرف پھینکے جانے والے اس مکر وہ الزام کو ٹھوکر میں مارے کہ آپ نے معجزات اور قوت قدسیہ کی ناکامی کے بعد تلوار کے زور سے اسلام کو پھیلا یا تھا تو پھر مجھے آج ہی ” زمرہ کفار میں لکھ لیجئے۔اور بخدا اگر اس کفر کی سز ا سوسائٹی سے کاٹ پھینکا جانے کی بجائے سولی پر لٹکایا جانا بھی ہو اور ایک ملک کا اقتدار ہی نہیں روئے زمین کی ساری طاقتیں بھی آپ کی مٹھی میں جمع ہو جائیں اور ہولناک مظالم کے بھتنے آپ کی انگلیوں اور پلکوں کے اشاروں پر ناچنے لگیں تو بھی میرا جواب یہی ہوگا کہ بعد از خدا بعشق محمد محمد محترم گر کفر این بود بخدا سخت کافرم خدا تعالیٰ کے بعد میں محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں مخمور ہوں۔اگر کفر یہی ہے تو خدا کی قسم ! میں سخت کافر ہوں۔