مذہب کے نام پر خون — Page 122
۱۲۲ مذہب کے نام پرخون اس کا ایمان قبول نہ ہوا۔اسی مضمون کو دوسری جگہ قرآن کریم یوں بیان فرماتا ہے :۔فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّتَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَفِرُونَ (المؤمن : ٨٦) لیکن جب وہ ہمارا عذاب دیکھ چکے تو ان کے ایمان نے انہیں کچھ بھی فائدہ نہ دیا۔کچھ یہ خدا کی سنت ہے جو اس کے بندوں کے بارہ میں چلی آتی ہے اور یہ وہ مقام ہے جہاں کا فر گھاٹے میں پڑ گئے۔مودودی نظریہ اس کے بالکل برعکس ہے اور اس نظریہ کے مطابق ڈنڈا پہلے ہے اصلاح بعد میں ہے۔بلکہ حقیقی ایمان تو نصیب ہی اس وقت ہوتا ہے جب تلوار دلوں کے زنگ دور کر دے۔یہ بحث تو خیر یونہی ضمنا نکل آئی ذکر یہ ہو رہا تھا کہ مودودی صاحب کے یہ تصورات کہاں سے آئے ہیں۔قرآن کریم سے اگر نہیں تو پھر کہیں سے تو آئے ہیں یا محض اپنی ہی ایجاد ہے؟ مشکل یہ ہے کہ ایجادا سے ہم کہ نہیں سکتے کیونکہ اس قسم کے اصلاحی تصورات پہلے ہی سے دنیا میں موجود ہیں۔دیکھنا صرف یہ باقی تھا کہ کہاں موجود ہیں۔چنانچہ اس ضمن میں جو کچھ مجھے معلوم تھا وہ تحریر کر دیا۔اب آخر پر میں اس رد عمل کو لیتا ہوں جو مولانا کے مندرجہ بالا مجوزہ انقلابی اعلان کو پڑھ کر مختلف طبائع پر ہو سکتا ہے۔ایک تاثر تو وہی ہے جس کا میں نے اوپر ذکر کر دیا ہے یعنی انسان اسے زیادہ سے زیادہ ایک معمر بزرگ کا بچپن سمجھ سکتا ہے لیکن اس کے علاوہ میں سوچتا ہوں کہ بفرض محال اگر واقعی کوئی ایسا انقلابی دن کسی بدقسمت ملک نے دیکھا تو اس اعلان کو پڑھنے کے بعد لوگوں کا رد عمل کیا ہو گا۔میرا خیال ہے موٹی طبیعت کے اجڈ قسم کے آدمی تو یہ اعلان پڑھ کر قاصد کے منہ پر ماریں گے کہ جاؤ جاؤ بڑے آئے ہو اصلاح کرنے والے کہیں کے۔خدائی فوجدار بنے پھرتے ہو۔تمہیں کس نے ٹھیکہ دیا ہے میرے مذہب کا؟ گھر جا کر بیٹھو اور اگر پھر اس طرف کا رخ کیا تو۔۔۔۔یہ وہی طبقہ ہے جس سے متعلق غالب کہتا ہے کہ 66