مذہب کے نام پر خون — Page 121
۱۲۱ مذہب کے نام پرخون اس اقتباس میں میرا بس اتنا تصرف ہے کہ نوٹس والے حصے کو تحریر سے پیوستہ لکھنے کی بجائے الگ پہرا بنا کر لکھا گیا ہے ورنہ مضمون اور الفاظ من وعن مودودی صاحب کے ہی ہیں۔دیکھئے اس اصلاح خلق کے تصور میں کس قدر بچگانہ خوش فہمی پائی جاتی ہے۔جیسے کوئی جنوں پر یوں کی دنیا میں بس رہا ہو۔حکومت نہ ہوئی الہ دین کا چراغ ہو گیا اور اصلاح خلق نہ ہوئی برف کے محل کی تعمیر ہو گئی لیکن اگر واقعی ایسا ہی ہے اور حکومت الہ دین کا چراغ ہی ہے اور اصلاح خلق برف ہی کا محل ہے جس کی تعمیر اس چراغ کے جن کے لئے مشکل نہیں تو میں پوچھتا ہوں کہ اگر یہ چراغ کھویا گیا؟ مجھے اس وقت انبیاء گذشتہ کا بہت خیال آرہا ہے۔کتنے ہی ان میں سے ایسے تھے جن کی ساری زندگی سخت مظلومی کی حالت میں کئی۔کاش ان کو بھیجتے وقت بھی خدا تعالیٰ یہ چراغ ان کے ہاتھوں میں تھما دیتا! کچھ ان کے دکھ دور ہوتے کچھ دنیا کے دلدر تاریکیاں چھٹ جاتیں اور ہر طرف ہدایت کا نور بکھر جاتا۔یہ اقتباس پڑھنے کے بعد میرا یہ قیاس اور بھی قوی ہو گیا ہے کہ مودودی صاحب نے بچپن میں ضرور مارکس یا لین کے اردو تر جمے پڑھے ہیں اور روسی انقلاب کی تاریخ بھی دیکھی ہے جن سے ان کی طبیعت میں بہت ولولے پیدا ہوئے ہیں اور نئے نئے خیال دل میں آئے ہیں کہ اچھا یوں بھی ہوسکتا ہے؟ گذشتہ مصلحین تو پھر یونہی بھولے بھٹکے رہے یہ نہ کسی سے ہوا کہ ایک انقلابی پارٹی بنالیتا جس کا نعرہ یہ ہوتا کہ ہم آئے تو اصلاح کرنے ہی ہیں مگر یہ سمجھنے کے لئے زیادہ غور کرنے کی بھی ضرورت نہیں کہ اصلاح خلق کی کوئی اسکیم بھی حکومت کے اختیارات پر قبضہ کئے بغیر نہیں چل سکتی“۔الہذا اس پارٹی کے لئے حکومت پر قبضہ کئے بغیر کوئی چارہ نہیں لے ،، چنانچہ ہم پہلے حکومت پر قبضہ کریں گے اس کے بعد تمہاری اصلاح کا کام شروع کریں گے اور تم دیکھو گے کہ حکومت ہاتھ آتے ہی ہم مار مار کر تمہارے دلوں کو کیسا صاف اور ستھرا کر دیتے ہیں۔اس ذکر میں مجھے قرآن کریم اور مولانا کے درمیان ایک اور اختلاف یاد آ گیا۔قرآن کریم تو فرماتا ہے کہ جب اصلاح کا وقت ختم ہو جاتا ہے تو پھر سختی کا وقت شروع ہوتا ہے اور جب سختی کا وقت شروع ہو جاتا ہے تو پھر اصلاح کا سوال ہی باقی نہیں رہتا۔فرعون امنتُ آمَنتُ کہتا ڈوب گیا مگر لے حقیقت جہاد صفحہ ۵۹