مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 116 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 116

117 مذہب کے نام پرخون قتل و غارت کے بازار گرم ہونا باقی ہیں ! ابھی مودودی تلواروں نے کتنے ہی اور گھاٹوں کا سرخ پانی پینا ہے اور میں یہ سوچتا ہوں کہ جب یہ مودودی اسلام زمین کے چپہ چپہ کو لالہ رنگ کر چکے گا تو ہزاروں ہزار میل کے ویرانوں میں کسی تنہا صالح مسلمان“ کی صدائے اذان کیسی بھلی معلوم دے گی اور میں سوچتا ہوں کہ مولانا کے امن عالم کا اسلامی تصور کرتا بھیا نک ہے جس امن کی تصویر چپ چاپ خاموش قبرستانوں میں نظر آتی ہے اور جس کا دوسرا نام زندگی کا فقدان ہے۔موت ہے۔منافقین کی ایک عالمگیر جماعت اور اگر یہ قتل و غارت کا بازار گرم نہ ہوا تو صرف ایک صورت میں۔۔۔۔۔صرف ایک صورت میں کہ دنیا کے پردہ پر منافقین کی ایک عظیم عالم گیر جماعت ظہور پذیر ہو ور نہ اس تلوار سے بچنے کا کوئی امکان نہیں۔ناظرین اسے افسانہ یا شاعری خیال نہ کریں اگر چہ یہ درست ہے کہ جب مودودی عزائم کا عمل کی دنیا میں نقشہ کھینچ کر دیکھا جائے تو وہ ایک ہولناک افسانہ معلوم ہوتا ہے یا ایک خوفناک خواب یا ایک شاعر کا دل ہلا دینے والا تصور مگر افسوس کہ نہ تو یہ خواب ہے نہ کوئی افسانہ نہ شاعرانہ تصور بلکہ ایک جیتی جاگتی بظاہر سوچنے کی طاقت رکھنے والی علم دین و فہم رسالت رکھنے کی دعویدار ہستی کے وہ نظریات ہیں جو وہ آج اسلام کے نام پر دنیا کے سامنے پیش کر رہی ہے اور اس تحدی کے ساتھ کہ جب بھی موقع ملا ان دعاوی پر عمل کر کے دکھایا جائے گا۔یہ ہے وہ اسلام کے عالم گیر غلبہ کا دن جو مودودی تصور کی کھڑکیوں سے جھانک رہا ہے۔کیا نعوذ باللہ اسی دن کو کھینچ لانے کے لئے آج سے تقریبا چودہ سو برس پہلے افق عرب سے حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نیر عالم تاب کا ظہور ہوا تھا؟ اے کاش ! مولانا مودودی اپنے مذہب کو اسلام کے سوا کوئی اور نام دے لیتے اور ہمارے آقا کے نام کو اپنے اس کر یہ المنظر تاریک و تار تصور سے ملوث نہ کرتے لیکن اگر ایسا کرتے تو کون ان کی پیروی کرتا اور کون ان کو اس نئے مذہب کے نام پر ووٹ دیتا؟ اس لئے ان کے سامنے صرف ایک راہ باقی تھی اور وہ راہ یہی تھی کہ اپنے آمرانہ خیالات کو ہمارے معصوم آقا کی طرف منسوب کر کے رائج کرتے۔پس انہوں نے ایسا ہی کیا اور امن اور سلامتی کے اس رسول کے نام کو بھی اس کشت و خون کے میدان میں گھسٹینے سے گریز نہیں کیا جس رسول کا ایک ایک سانس امن کا پیغام لے کر آتا تھا ،