مذہب کے نام پر خون — Page 115
۱۱۵ مذہب کے نام پرخون بلند ہوں گے کہ ان کی چیخ پکار کنگرہ عرش کو ہلا دے گی اور ایک طرف تو چین کی دیواریں کا نہیں گی اور دوسری طرف یورپ پر لرزہ طاری ہوگا۔اور جب ان چند ایک صالحین کے باز وگردنیں مارتے مارتے شل ہو جائیں گے تو انہی مرتدین سے وسیع و عریض کھائیاں کھدوا کر ان میں سرخ آگ بھڑکائی جائے گی اور رہے سہے مرتدین کو زندہ آگ میں جلا دیا جائے گا اور اس آگ کی آسمان سے باتیں کرتی ہوئی لپٹیں پاکستان کی شمال اور جنوب مشرق و مغرب کو روشن کر دیں گی۔پس وہ کیسی مبارک صبح ہوگی جب افق پاکستان سے مودودیت کا یہ سرخ سویر اطلوع ہوگا! مگر یہ تو محض ایک ابتداء ہے اور انتہاء سے پہلے ابھی کئی ایک منازل طے کرنی باقی ہیں۔اگر سب سے پہلا انقلابی ملک پاکستان ہوا تو ابھی تو کتنے ہی اسلامی ممالک کے وسیع وعریض خطے پاکستان کے دائیں اور بائیں اور آگے اور پیچھے پھیلے پڑے ہیں جہاں مرتد مائیں مرتد بچے“ 9966 جن رہی ہیں اور ابھی تو ہندوستان کے چھ کروڑ مرتدین کا صفایا باقی ہے۔ابھی باقی ہے وہ نوحہ جو پہاڑوں کے سینے پھاڑ دے گا اور آسمان کے پردے چاک کر دے گا اور وہ گر یہ باقی ہے جسے سن کر زمین کی چھاتیوں کا دودھ خشک ہو جائے گا اور آسمان کے ستارے سینہ کوبی کریں گے اور جس کے درد سے چاند سورج کی آنکھیں بھی روتے روتے اندھی ہو جائیں گی! پھر کیا اس وسیع قتل و غارت کے بعد جبکہ تمام اسلامی ممالک اکثر مسلمان آبادیوں سے خالی ہو چکیں گے۔ان ذی اقتدار حقیقی مسلمانوں کی پیاس بجھ جائے گی اور ہوس اقتدار کی آگ ٹھنڈی پڑ جائے گی ؟ اگر ان بلند عزائم کو دیکھا جائے جو مولانا کے دل میں جوش مارتے ہیں اور نوک زبان اور قلم سے جاری ہوتے رہتے ہیں تو اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔نہیں۔ابھی یہ پیاس نہیں مجھے گی اور یہ آگ ٹھنڈی نہ ہوگی جب تک کہ کفار حکومتوں کو دعوت اسلام بھجوانے کے بعد ان کے اصرار کفر پر یا اس کا انتظار کئے بغیر ہی انہیں بزور شمشیر مقہور نہ کر لیا جائے۔ابھی تو ان کے غضب کی بجلی کو یورپ پر بھی گرنا ہے اور امریکہ پر بھی۔چین پر بھی اور جاپان پر بھی۔آسٹریلیا پر بھی اور نیوزی لینڈ پر بھی۔ابھی تو اس کے کوندوں نے افریقہ کے صحراؤوں پر لپکنا ہے اور سیاہ جنگلوں کو آگ لگانی ہے۔ابھی تو اس نے روس کو نذرآتش کرنا ہے اور سائبیریا کی یخ بستہ تر ائیوں کو شعلہ ایمان بخشنا ہے۔ابھی تو کتنے ہی