مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 114 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 114

۱۱۴ مذہب کے نام پرخون عقائد کی ایک فہرست شائع کی جائے گی اور یہ اعلان عام کیا جائے گا کہ کسی معین مدت کے اندراندروہ تمام مسلمان جوان ان عقائد کے قائل ہیں نزدیک ترین تھانوں یا عدالتوں میں اپنے نام درج کروادیں۔اگر وقت مقررہ کے اندر کوئی مسلمان رجسٹر ہونے سے رہ گیا تو اپنی جان ، مال اور عزت کا وہ خود ذمہ دار ہوگا نیز اس عرصہ کے اندراندر تمام رعا یا ہتھیار جمع کروا دے۔اس اعلان کے بعد حکومت فوری طور پر قتل وغارت کی تیاری میں مصروف ہو جائے گی اور مودودی فوج اور مودودی پولیس اپنے ہتھیاروں کو صیقل کرلے گی اور ایک ایسے جہاد کے لئے کمر ہمت کسنے لگے گی جس میں محنت اور مشقت تو بہت ہوگی مگر شہادت کا کوئی خطرہ نہ ہوگا کیونکہ اس معین دن سے پہلے پہلے دشمن کو نہتہ کیا جا چکا ہوگا۔ایک بے چین عرصہ انتظار کے بعد آخر وہ دن آجائے گا جبکہ کروڑوں ایسے مرتدین کی گردنیں مودودی تلواروں کے لئے حلال کر دی جائیں گی جو مرتدین پہلے پیدائشی مسلمان کہلاتے تھے چنانچہ ایک آواز دینے والے کی آواز پر خدا جانے کتنی تلوار میں اٹھیں گی اور گریں گی اور کتنے سرتن سے جدا ہوں گے اور کتنے بدن خاک و خون میں غلطاں ہوں گے ! اگر مولانا مودودی کے اقوال اور افعال میں کوئی فرق نہیں ، اگر وہ وہی سب کچھ کر بھی سکتے ہیں جو وہ کہتے ہیں تو ایسا ہی ہوگا اور نہ جانے کتنی تلوار میں ایک مرتبہ نہیں ہزار مرتبہ اٹھیں گی اور ہزار مرتبہ گریں گی اور سرتن سے جدا ہوتے رہیں گے اور بدن خاک و خون میں غلطاں ہوں گے۔وہ وقت ایسا ہوگا کہ اگر خاوند نے تو بہ کر لی یا راستی کی راہ سے ہٹ گیا تو خودا سے تو زندہ رکھا جائے گا مگر اس کی بیوی اس کی آنکھوں کے سامنے تہ تیغ کی جائے گی اور اگر بیوی نے توبہ کرلی یا جھوٹ بول کر منافقت کی راہ اختیار کی تو وہ خود زندہ رکھی جائے گی مگر اس کا راستباز خاوند اس کی آنکھوں کے سامنے ہلاک کیا جائے گا بچے بلا استثناء زندہ رکھے جائیں گے اور بہر حال اپنی ماں یا باپ یا ماں باپ دونوں کو مرتا ہوا دیکھیں گے اور ان دودھ پیتے بچوں کے بلکنے سے جن کی بے قرار آنکھیں مرتد ماؤں کو ترسیں گی اور ان یتیم لڑکوں اور لڑکیوں کی گریہ وزاری سے جن کی روتی ہوئی آنکھیں پھر کبھی ان مرتد باپوں کو نہ دیکھ سکیں گی۔۔۔۔پاکستان کی بستی بستی ، قریہ قریہ سے وہ نعرہ ہائے درد