مذہب کے نام پر خون — Page 110
+11 مذہب کے نام پرخون حیات آخرت رکھتا ہے۔اس لئے دراصل یہ اس مرتد کی مصیبت کا خاتمہ نہیں فرمارہے ہوں گے بلکہ اسے سیدھا جہنم واصل کر رہے ہوں گے۔ان کی اس دنیا کی امکانی زندگی سے متعلق (جس سے مولانا اس مصیبت زدہ کو نجات دلا رہے ہیں ) تو یہ ایک انسانی رائے تھی کہ وہ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيى والی حالت کی مصداق ہے مگر جہاں اسے اب بھجوا رہے ہیں اس سے متعلق تو خدا فرماتا ہے کہ لا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيى (الاعلی : ۱۴) نہ تو وہ ( بد بخت ) اس میں مرے گا نہ زندہ رہے گا۔صرف اسی پر بات ختم نہیں ہو جاتی بلکہ موازنہ اس سے بھی بدتر ہے۔مولانا تو اسے جس آگ سے نجات دینے کے لئے از راہ شفقت مار رہے تھے وہ خود ان کے ہاتھوں کی بھڑکائی ہوئی تھی اور زیادہ سے زیادہ ہم اسے نار صغری کہہ سکتے ہیں یعنی چھوٹی آگ مگر اب جس آگ کی طرف اسے بھجوا رہے ہیں اس کا نام خود خدا تعالیٰ نے النَّارُ الكُبرى “ رکھا ہے یعنی بڑی آگ۔پس مولانا کا یہ مصیبتوں سے نجات دلانے کا عجیب طریق ہے کہ ایک لا یموتُ فِيْهَا وَلَا يَحْیی کی حالت سے نکال کر دوسری شدید تر لا يموت فيها ولا تخیلی کی حالت میں دھکیل رہے ہیں اور ایک ملکی آگ سے نجات دے کر دوسری بڑی آگ میں جھونک رہے ہیں اور ابھی یہ خاص رحمت اور نرمی کا سلوک۔اور یہ اعلان بھی جاری ہے کہ یہ رنگ سرخ نہیں ہے سبز ہے۔ہے کافر کو تو پھر کچھ امید ہوسکتی تھی کیونکہ ابھی اس نے اپنی طبعی موت تک خدا جانے کتنے برس دیکھ بھال کے کاٹنے تھے اور خدا جانے کتنے مواقع اسے میسر آنے تھے کہ حق و باطل میں تمیز کر کے اخروی نجات کو پالیتا مگر یہ مجبور مرتد کہ جس کی رگ جان کاٹنے کے ساتھ ہی نجات کی سب امید میں منقطع کر دی گئیں دوسری دنیا میں آنکھ کھولتے ہی جب جہنم کی طرف لے جایا جارہا ہوگا تو خدا جانے ان ہاتھ دبانے والوں سے متعلق کیا سوچ رہا ہو گا جنہوں نے قتل سے پہلے اسے یہ یقین دلایا تھا کہ یہ سب کچھ اس کی فلاح اور بہبود ہی کی خاطر کیا جارہا ہے۔آخر میں میں پھر قارئین کی یاد تازہ کرنے کی غرض سے اشاعت اسلام کے بارہ میں مودودی صاحب کی پالیسی کے تمام نکات کو مختصراً بیان کر دیتا ہوں:۔(۱) غیر اسلامی ممالک کو دعوتی کارڈ بھجوائے جائیں مگر طاقت پاتے ہی خصوصاً ہمسایہ