مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 94 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 94

۹۴ مذہب کے نام پرخون (۲) یہ لوگ کوئی غیر معروف لوگ نہیں تھے بلکہ مسلمان جانتے تھے کہ یہ مرتدین کون ہیں تبھی تو جا کر ان کو نصیحت کرتے تھے کہ تو بہ کر لو اور اگر بفرض محال پہلے نامعلوم بھی تھے تو اب اس سورۃ کے نزول کے بعد بہر حال معلوم ہو چکے تھے۔(۳) خدا تعالیٰ نے اس آیت میں یہ نہیں فرمایا کہ آؤ تو بہ کرو ورنہ قتل کر دیئے جاؤ گے بلکہ یہ فرمایا کہ آؤ میرا رسول تمہارے لئے بخشش مانگے گا۔اگر ارتداد کی سزا اقتل تھی تو کیا یہ آیت اسی طرح ہونی چاہیے تھی؟ مگر اب تو ارتداد پر طرہ یہ کہ ان مرتدین کی طرف سے سخت گستاخی بھی سرزد ہونے لگی۔مسلمانوں کی کھلی کھلی تحقیر کرنے لگے۔سر مٹکانے لگے۔منہ پھیر نے لگے۔تکبر کرنے لگے۔یہاں پہنچ کر ایک متشد دضرور یہ توقع رکھ سکتا ہے کہ اب اگلی آیت میں ان کے قتل کا حکم آجائے گا بلکہ شائد عذاب دے کر مارے جانے کی تلقین ہومگر افسوس کہ اس کے لئے ایک اور مایوسی کا منہ دیکھنا باقی ہے کیونکہ نہ تو اگلی آیت میں نہ اس سے اگلی آیت میں نہ اس سے اگلی آیت میں حتیٰ کہ بقیہ ساری سورۃ ہی میں کہیں ان کے قتل کا حکم نہیں ملتا۔قتل کا حکم تو ایک طرف رہا ابھی تو انہیں اور ڈھیل دی جارہی ہے اور آگے چل کر اللہ تعالیٰ ان سے متعلق فرماتا ہے کہ وہ مرتد صرف مسلمانوں کی ہی تحقیر نہیں کرتے بلکہ ظالم سید ولد آدم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی سخت تحقیر کر رہے ہیں۔چنانچہ فرماتا ہے:۔يَقُولُونَ لَبِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لِيُخْرِجَنَّ الْاَعَةُ مِنْهَا الْأَذَلَ وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنْفِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ (المنافقون: 9) کہتے ہیں جوں ہی ہم مدینہ واپس پہنچے معزز ترین شخص (یعنی بد بخت منافقوں کا سردار عبد اللہ بن اُبی بن سلول ) ( نعوذ باللہ ) ذلیل ترین انسان کو مدینہ سے نکال دے گا حالانکہ عزت خدا ہی کی ہے اور اس کے رسول کی اور مومنوں کی مگر منافقین نہیں جانتے۔اس آیت میں جس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ ایک غزوہ کے موقع پر جس میں بعض مرتد منافقین بھی مسلمانوں کے ساتھ لشکر کشی میں شریک تھے۔عبد اللہ بن اُبی بن سلول نے