مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 93 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 93

۹۳ مذہب کے نام پرخون آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سچا ہونے کی گواہی دیتے تھے مگر خدا نے ان کے سارے پول کھول دیئے مگر باوجود اس کے ان کے قتل کے بارہ میں نہ تو خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی حکم نازل ہوا نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ان کو اس جرم میں قتل کروایا۔ممکن ہے مولا نا یہ شبہ پیدا کریں کہ اللہ تعالیٰ یہ فرما کر کہ منافقین جھوٹے ہیں، دوسری آیت کو اس طرح شروع فرماتا ہے اتخذوا إيمَانَهُمْ جُنَّةٌ۔انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے۔یہ ڈھال دراصل ارتداد کی سزا یعنی قتل سے بچنے کے لئے تھی اور وہ مسلمانوں کو دھو کہ اس لئے دے رہے تھے کہ کہیں ہمارے ارتداد کا علم ہو گیا تو ہمیں قتل ہی نہ کر دیں۔بظاہر تو یہ ایک راہ فرار نکل آئی ہے مگر مولا نا ذرا کچھ آگے چل کر تو دیکھیں اس سورۃ نے ایسی ناکہ بندی کر رکھی ہے کہ واہمہ تک کو گزرنے کی مجال نہیں۔چنانچہ انہی مرتدین کا ذکر جاری رکھتے ہوئے کچھ آگے چل کر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَ إِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَسُولُ اللهِ لَووا رُءُوسَهُمْ وَ رَأَيْتَهُم و و و و و وور يصدون وهم مستكبرون (المنافقون: 1) اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ رسول خدا تمہارے لئے (خدا سے) بخشش مانگیں گے تو سر مٹکانے لگتے ہیں اور تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر لیتے ہیں۔اس آیت کے ہوتے ہوئے اتَّخَذُوا ايْمَانَهُمْ جُنَّةٌ سے یہ مراد لینی کہ وہ قسمیں اس خوف سے کھاتے تھے کہ قتل نہ کر دیئے جائیں ایسی صریح زیادتی ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کیا زیادتی ہوگی۔اس آیت سے جو واضح غیر مبہم نتائج نکلتے ہیں وہ یہ ہیں کہ :۔(1) ان مرتدین کے لئے کسی قسم کے خوف کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا بلکہ جب انہیں کہا جاتا تھا کہ آؤ تو بہ کر لو تو سر مٹکاتے تھے ، منہ پھیر لیتے تھے اور سخت تکبر سے پیش آتے تھے۔کیا موت سے ڈرا ہوا انسان یہ مظاہرہ کیا کرتا ہے؟ اگر انہوں نے کسی خوف کی وجہ سے یہ جھوٹ بولا ہوتا تو پھر تو یہاں یہ ہونا چاہیے تھا کہ یہ سن کر ڈر کے مارے ان کے حواس خطا ہونے لگتے ہیں اور پھر وہ بڑے زور سے قسمیں کھاتے ہیں کہ استغفر اللہ ! اللہ ! باللہ ! تاللہ! ہم تو مومن ہیں اور اگر تم نہیں مانتے تو ہم اب تو بہ کر لیتے ہیں۔