مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 242 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 242

۲۴۲ مذہب کے نام پرخون سنت نبوی کی صریح خلاف ورزی ہمارے قانون کا دوسرا ما خذ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل اور اسوہ حسنہ ہے جسے سنت رسول کا نام دیا گیا ہے۔اس ضمن میں ہم اس دعوے کا کھوکھلا پن که ارتداد کے جرم کی پاداش کے طور پر بعض کو قتل کی سزادی گئی تھی ، پہلے ہی واضح کر چکے ہیں۔دعوی نبوت کے بعد قریش کے ظالمانہ رد عمل کے بالمقابل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا موقف کیا تھا؟ یہی تو تھا کہ آپ کو خدائی پیغام پر ایمان لانے ، پر امن طور پر اس کا اعلان کرنے اور دوسروں تک اُسے پہنچانے دیا جائے اور اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ کھڑی کی جائے۔مکہ والوں نے آپ کو اس امر کی اجازت نہ دی۔جن لوگوں نے آپ پر ایمان لانا شروع کیا انہیں انہوں نے سزا کا مستوجب گردانا اور پھر سزا دینے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔جہاں تک مکہ والوں کا تعلق تھا ان کے نزد یک جو لوگ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لائے ہوئے پیغام پر ایمان لے آئے تھے وہ بت پرستی کے اعتقاد سے ارتداد اختیار کر کے مرتد ہو جاتے تھے اسی لئے وہ انہیں سزا کا مستوجب گردانتے تھے۔اس کے بالمقابل اگر دیکھا جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام زندگی بنیادی انسانی حقوق کی حمایت جاری رکھی۔آپ کا اول دن سے یہی موقف تھا اور تادمِ آخر یہی موقف رہا کہ ہر شخص کو یہ آزادی حاصل ہونی چاہیے کہ وہ اپنی پسند کا مذہب اختیار کر سکے اور کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو اپنا مذہب تبدیل کرنے پر مجبور نہ کرے۔گویا جہاں تک مذہب کی تبدیلی کا تعلق ہے یہ اختیار کلیہ ہر شخص کو خود حاصل ہونا چاہیے کہ وہ جس مذہب کو ترک کرنا چاہے اسے ترک کر سکے اور جس مذہب کو اختیار کرنا چاہے اسے اختیار کر سکے۔اس اختیار کو استعمال کرنے میں کسی دوسرے کی مداخلت کا سوال ہی پیدا نہیں ہونا چاہیے۔حقیقت یہ ہے کہ جہاد کا یہی اصل اور حقیقی مفہوم ہے اور یہی وہ جہاد ہے جسے تاریخ مذاہب کی رو سے تمام انبیاء علیہم السلام نے اپنے مخالفین کے خلاف زندگی بھر جاری رکھا۔قرآن مجید نے انبیائے ماسبق کے حوالے سے اس جہاد کا بار بار ذکر کیا ہے ( حوالہ کے لئے دیکھیں سورۃ البقرۃ آیت ۵ ، سورۃ الانعام آیت ۱۱۳ ،سورۃ الانبیاء آیت ۴۲ ،سورة الفرقان آیت ۳۲ ،سورۃ لیسین آیات ۳۱،۸، سورۃ الزخرف آیت (۸) پھر قرآن کریم نے مختلف انبیاء کا نام لے کر بھی ان کے اس جہاد پر