مذہب کے نام پر خون — Page 241
۲۴۱ مذہب کے نام پرخون بتا رہا ہے کہ اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے ہی نہیں۔ارتداد کے لئے سزائے قتل کے حامی ذرا اس امر پر بھی غور کریں کہ اگر ان کی پیش کردہ حدیث کو درست تسلیم کر لیا جائے تو اس حدیث اور قرآن میں جو واضح تضاد پایا جاتا ہے اسے وہ کس طرح دور کریں گے؟ وہ خاص طور پر مندرجہ بالا آیات کی روشنی میں اپنے موقف پر دوبارہ غور کریں اور خالی الذہن ہو کر پوری غیر جانبداری سے ان آیات کے اصل مفہوم کا پھر سے جائزہ لیں۔پھر اسی پر بس نہیں قرآن مجید نے اس مسئلہ پر بار بار روشنی ڈالی ہے۔مثال کے طور پر ایسی مشکوک حدیث کو قرآن مجید کے درج ذیل واضح اور غیر مبہم احکام سے زیادہ باوزن کیسے قرار دیا جاسکتا ہے:۔وَ لَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَنْ فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا أَفَأَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تُؤْمِنَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَيَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ - (يونس: ١٠١،١٠٠) اور اگر اللہ (ہدایت کے معاملہ میں ) اپنی ہی مشیت کو نافذ کرتا تو جس قدر لوگ زمین پر موجود ہیں وہ سب کے سب ایمان لے آتے۔( پس جب خدا بھی مجبور نہیں کرتا ) تو کیا تولوگوں کو اتنا مجبور کرے گا کہ وہ مومن بن جائیں۔اور اللہ کے دیئے ہوئے اذن کے سوا کسی شخص کے اختیار میں نہیں کہ وہ ایمان لے آئے۔اور وہ اپنا غضب ان لوگوں پر نازل کرتا ہے جو عقل رکھتے ہوئے اس سے کام نہیں لیتے۔جب خدا تعالیٰ خودلوگوں کو ایمان لانے پر مجبور نہیں کرتا تو ہم کون ہیں کہ ہم تلوار ہاتھ میں لے کر لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کریں یا مودودی صاحب کے تیار کردہ چوہے دان لگا کر لوگوں کو پھانسنے کی کوشش کریں اور جو لوگ ان میں آپھنسیں انہیں ان میں سے نکلنے نہ دیں۔مرتد کے لئے سزائے قتل کے حامیوں کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ سینکڑوں سال بعد جمع کی گئی احادیث میں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب بعض احادیث کو بھی جو واضح اور کھلے طور پر قرآن مجید کی تعلیم کی تردید کر رہی ہوتی ہیں لفظ لفظ درست تسلیم کر لیتے ہیں۔