مذہب کے نام پر خون — Page 193
۱۹۳ مذہب کے نام پرخون فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ - وَإِذَا رَأَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ أَجْسَامُهُم وَ اِنْ يَقُولُوا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِم ط b كَانَّهُمْ خُشُبُ مُسَنَدَةٌ يَحْسَبُونَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ هُمُ الْعَدُو فَاحْذَرُهُم - b قتَلَهُمُ اللهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ - وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ لَقَوا رُءُوسَهُمْ وَ رَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُمْ مُسْتَكْبِرُونَ - سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ اسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ b b اَم لَمْ تَسْتَغْفِرُ لَهُمُ لَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفُسِقِينَ (المنافقون: ۲ تا ۷) جب تیرے پاس منافق آتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم قسم کھا کر گواہی دیتے ہیں کہ تو اللہ کا رسول ہے اور اللہ جانتا ہے کہ تو اس کا رسول ہے مگر ساتھ ہی اللہ قسم کھا کر گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں۔انہوں نے اپنی قسموں کو ( تیری گرفت سے بچنے کے لئے ) ڈھال بنالیا ہے اور وہ اللہ کے رستہ سے لوگوں کو روکتے ہیں۔جو کچھ وہ کرتے ہیں بہت برا ہے۔یہ کام وہ اس لئے کرتے ہیں کہ وہ پہلے ایمان لائے پھر انہوں نے انکار کر دیا جس کے نتیجہ میں ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی اور اب وہ سمجھتے نہیں۔۔وہ پکے دشمن ہیں پس تو ان سے ہوشیار رہ تو ان کے لئے استغفار کرے یا نہ کرے ان کے لئے سب برابر ہے کیونکہ اللہ ان کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔اللہ اطاعت سے نکل جانے والی قوم کو کا میابی کا منہ نہیں دکھاتا۔منافقوں کے متعلق آخری دو حوالے آخر میں نازل ہونے والی سورتوں میں سے ایک سورۃ ( یعنی سورة التوبة ) میں وارد ہوئے ہیں۔جیسا کہ فرمایا :- b لا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ إِنْ نَعْفُ عَنْ طَابِفَةٍ مِنْكُمْ نُعَذِّبُ طَائِفَةٌ بِأَنَّهُمْ كَانُوا مُجْرِمِينَ (التوبة: ٦٦) اب کوئی عذر نہ کرو تم نے ایمان لا کر کفر کیا۔اگر ہم تم میں سے ایک گروہ کو معاف کر دیں اور ایک دوسرے گروہ کو سزا دے دیں اس لئے کہ وہ مجرم تھے تو یہ ہمارا کام ہے۔منافقوں میں سے جنہیں معاف کیا جانا تھا ظاہر ہے کہ یہ وہ منافق تھے جنہوں نے تو بہ کر لی