مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 108 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 108

مذہب کے نام پرخون رکھ دیتے ہیں اور تماش بینوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ جسے تم سرخ دیکھ رہے ہو دراصل یہ سبز ہے۔قتل مرتد کے بارے میں مولانا کے تصورات سے تو قارئین روشناس ہو ہی چکے ہیں اور ان کے اس عقیدہ پر بھی ابھی ابھی اطلاع پاچکے ہیں کہ زبر دستی کسی کو مسلمان نہیں بنایا جا سکتا۔اس مؤخر الذکر عقیدہ کالازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب زبر دستی مسلمان بنایا ہی نہیں جاسکتا تو پھر اس سلسلہ میں زبر دستی کرنا بھی خلاف عقل اور ممنوع ہوگا۔مگر مولا نا اس نتیجہ کو تسلیم کرنے پر کسی طرح رضامند نہیں ہوتے اور اپنی مخصوص طرز استدلال کے ذریعہ اپنے دل کو قائل کر لیتے ہیں کہ ایمان کی اشاعت کے لئے ہر قسم کا جبر جائز ہے اور اگر اشاعت کے لئے نہیں تو اسی عذر پر یہ جبر جائز ہے کہ مومنوں کا ایمان محفوظ رہے چنانچہ اس خود حفاظتی کے بہانے ہمسایہ ملکوں پر حملہ کرنا بھی نہ صرف جائز بلکہ بس چلے تو از بس ضروری ہے۔ہاں ایک مقام پر جا کر یہ اس عقلی تقاضا کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں اور وہ مقام قتل کا فر کا مقام ہے اور خود مولانا کو بھی یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ایمان نہ لانے کے جرم میں کا فر کو قتل نہیں کیا جاسکتا۔لیکن آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا والا معاملہ ہے۔ایک عقلی اعتراض سے تو بیچ نکلے دوسرا آپڑا۔مشکل اب یہ در پیش ہے کہ جرم کفر میں اگر ایک کا فر کو قتل کی سزا نہیں دی جاسکتی تو پھر مرتد کو اسی جرم کی سزا میں کیوں مارا جارہا ہے؟ کیا اسے زبر دستی مسلمان بنایا جاسکتا ہے؟ اگر صرف یہ کہا جائے کہ ایسے شخص کا سوسائٹی میں رہنا سوسائٹی کے لئے نقصان دہ ہے تو جواباً یہ کہا جاسکتا ہے کہ جس طرح دوسرے کفار کا سوسائٹی میں رہنا سوسائٹی پر برے رنگ میں اثر انداز نہیں ہوتا اسی طرح اس نئے کافر کا حال ہوگا۔اور اگر وہاں برداشت کیا جا سکتا ہے تو یہاں بھی برداشت کر لیں۔جو پابندیاں آپ دوسرے کفار پر عائد کرتے ہیں اس کو کافر پر بھی عائد کر دیجئے۔زیادہ سے زیادہ گھر بدر بلکہ ملک بدر کر دیجئے۔عمر قید کی سزا دے دیجئے۔یہ قتل کا بھلا کیا جواز ہوا یہ تو صریح نا انصافی اور ظلم ہے۔تو یہ جواب سن کر مولا نا ہمیں خبر دیتے ہیں کہ نادانو ! آنکھ کے اندھو! یہ ظلم نہیں یہ تو رحم ہے۔دکھائی نہیں دیتا تو پوچھ ہی لیا کرو۔اپنے الفاظ میں اس رحم کی تفصیل مولا نا یوں بیان فرماتے ہیں:۔اس کے لئے دو ہی علاج ممکن ہیں یا تو اسے اسٹیٹ میں تمام حقوق شہریت سے