مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 40 of 239

مضامین ناصر — Page 40

سمجھنے سے انکار کر دیں تو دیکھنا ایک طرف یہ خیال کہ دلائل اس قدر واضح اور تین ہیں اور دوسری طرف یہ خیال کہ نمونہ اس قدر اعلیٰ پیش کیا گیا ہے۔مگر لوگ پھر بھی حق کو قبول نہیں کرتے۔تمہارے دلوں میں کبر اور دنیا داروں کی سی سختی نہ پیدا کرے بلکہ چاہیے کہ اس اسلامی نمونہ اور ان عقلی دلائل کو پیش کرتے ہوئے اُدْعُ إلى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِإِنَّتِيْ هِيَ أَحْسَنُ (النحل :۱۲۶) مخالفین میں سے عقل مندوں کو اپنے رب کے راستہ کی طرف ایسے دلائل قطعیہ سے بلاؤ کہ ان کے شبہات دور ہو جائیں اور مخالفین میں سے جو عوام ہیں ان کے سامنے عام فہم دلائل رکھو کہ وہ باریکیوں کے سمجھنے سے قاصر ہیں۔اور مخالفین میں سے کج بحثوں کے ساتھ نرمی سے بحث کرو تا وہ چڑ کر اسلام سے اور بھی دور نہ جا پڑیں۔آیت وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کے معنی تفسیر کشاف میں یوں بیان کئے گئے ہیں بِالطَّرِيقِ الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ طُرُقِ الْمُجَادَلَةِ مِنَ الرِّفْقِ وَاللَّيْنِ مِنْ غَيْرِ فَطَاظَةٍ وَلَا تَعْنِيفِ ، یعنی مخالفین سے بحث کرنے کا جو بہترین طریق ہے اس سے کرو یعنی محبت اور نرمی سے۔اور بحث کرتے ہوئے ترش کلامی اور سختی سے پر ہیز کرو۔علامہ سندی نے اپنی کتاب ” اللائحات البرقیات میں اس کی یوں تفسیر کی ہے وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِی أَى بِالْمُجَادَلَةِ الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ وَهِيَ الْمُجَادَلَةُ الْحَقَّانِيَّةُ الَّتِي بِالرِّفْقِ وَاللَّيْنِ وَالصُّلْحِ وَالْعَفْوِ وَالسَّمْح وَالْكَلَامِ بِقَدْرِ الْعُقُولِ وَالنَّظْرِ إِلَى عَوَاقِبِ الْأُمُورِ وَالصَّبْرِ وَالتَّانِي وَالتَّحَملِ وَالْحِلْمِ وَغَيْرُ ذَالِكَ مِنْ خَوَاصِ الْمُجَادَلَةِ “۔یعنی مخالفین سے مذہبی بحث بہترین طریق سے کر اور وہ وہ حقانی بحث ہے جس میں محبت ، نرمی ، چشم پوشی، عفو اور فراخ دلی سے کام لیا جاتا ہے۔اور جس بحث میں مخاطب کی سمجھ کے مطابق بات کی جاتی ہے اور نتائج کو نظر انداز نہیں کیا جاتا اور صبر اور بردباری اور متانت اور تحمل سے کام لیا جاتا ہے۔پس دشمن کے سامنے اعلیٰ نمونہ اور دلائل عقلیہ قطعیہ پیش کر کے اُسے اسلام کی دعوت دینی چاہیے اور یہ نمونہ اور دلائل اس کے سامنے ایسے رنگ میں پیش کرنے چاہئیں کہ جس کا اس پر زیادہ سے زیادہ اثر ہواور تبلیغ کرتے وقت کسی قسم کی سختی اور ترش کلامی نہیں کرنی چاہیے کجا یہ کہ اسے تلوار سے اسلام