مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 31 of 239

مضامین ناصر — Page 31

۳۱ قرآنی دلائل اور یہ کہ انہیں پیش کرتے ہوئے کمال حکمت اور نرمی سے کام لینا چاہیے۔پھر اس کے بعد جہاد بالسیف پر مختصر سا تبصرہ ہوگا۔وَمَا تَوْفِيقِى إِلَّا بِاللَّهِ جہاد کے معنی لغت کی رو سے جهاد کا لفظ جَهَدَ سے مشتق ہے اور جھد کا معنی ہیں مشقت برداشت کرنا اور جہاد کے معنی ہیں کسی کام کے کرنے میں پوری طرح کوشش کرنا اور کسی قسم کی کمی نہ کرنا۔تاج العروس میں ہے وَحَقِيْقَةُ الْجِهَادِ كَمَا قَالَ الرَّاغِبُ الْمُبَالَغَةُ وَاسْتِفْرَاغُ الْوُسُعِ وَالْجُهْدِ فِيمَا لَا يُرْتَضَى وَهُوَ ثَلَاثَةٌ أَضْرُبٍ مُجَاهَدَةُ الْعَدُةِ الظَّاهِرِ وَالشَّيْطَانِ وَالنَّفْسِ وَتَدْخُلُ الثَّلَاثَةُ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى وَجَاهِدُوا فِي اللهِ حَقَّ جِهَادِهِ - یعنی جیسا کہ راغب نے کہا ہے جہاد کے حقیقی معنی ہیں کسی قسم کی کمی اٹھا نہ رکھنا اور اپنی ساری طاقتوں کو خرچ کرنا اور نفس پر بار ڈال کر اس کام کو کرنا۔اور جہاد کی تین قسمیں ہیں۔عدو ظاہر کا پوری کوشش سے مقابلہ کرنا، شیطان کے مقابلہ میں اپنی تمام طاقتوں کو خرچ کرنا اور اس بات میں پورا زور لگا دینا کہ دنیا سے شیطانی باتوں کا قلع قمع ہو جائے ، اسی طرح نفس سے جنگ میں پوری کوشش سے کام لینا اور آیت کریمہ وَجَاهِدُوا فِي اللهِ حَقَّ جِهَادِهِ (الحج: ۷۹) جہاد کی مذکورہ بالا تینوں قسموں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔لسان العرب میں بھی جہاد کے معنی الْمُبَالَغَةُ وَاسْتِفْرَاعُ الْوُسْعِ ہی لکھے ہیں۔یعنی کوشش کو انتہاء تک پہنچانا اور اپنی طاقتوں کو کلی طور پر کسی کام میں لگا دینا۔پس عربی زبان میں جہاد کے معنی اپنی طاقتوں کو کلی طور پر اپنے مد مقابل کے خلاف لگا دینے کے ہوئے۔اسلامی اصطلاح میں جہاد کے معنی عربی زبان میں جہاد کے معنی یہ تھے کہ جس چیز کے خلاف جہاد کیا جائے خواہ وہ کوئی چیز ہی کیوں نہ ہو اس جہاد میں اپنی ساری طاقتوں کا لگا دینا۔کیا اسلامی اصطلاح میں جہادان عام معنوں