مضامین ناصر — Page 71
21 چیزیں بطور امانت انسانوں کے سپرد ہیں۔اس لئے سب انسان بادشاہوں اور ظاہری ملکیتیوں کے متعلق اپنے آپ کو آزاد نہیں کہہ سکتے۔جب وہ خدا تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے۔انہیں ان امانتوں کے صحیح مصرف کے بارہ میں اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہونا ہوگا۔امانت کے اس مفہوم کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہی حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم نے ان سے کہا۔اَن نَفْعَلَ فِي أَمْوَالِنَا مَا نَشْوا(هود: ۸۸) کہ کیا تو ہمیں اس بات سے منع کرتا ہے کہ ہم اپنے مالوں میں جو چاہیں کریں اگر فِي أَمْوَالِنَا درست ہو اگر ہم اپنے اموال کے حقیقی مالک ہوں تو شعیب علیہ السلام کی قوم کا یہ اعتراض صحیح ہوگا۔کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ حقیقی مالک کے اختیارات میں دخل اندازی کرے۔لیکن اگر في أَمْوَالِنَا ہی درست نہیں۔اگر ہم نے نہ اُن مالوں کو پیدا کیا نہ اُن قومی کو جن کے ذریعہ سے ہم نے یہ مال جمع کئے۔نہ ہم اپنی مرضی سے امیر کے گھر پیدا ہوئے جس کے اموال سے ہم نے حصہ پایا تو اَنْ نَّفْعَلَ مَا نَشَاءُ بھی درست نہیں ہو سکتا۔اگر ہم اپنے مالوں کے امین ہیں نہ کہ مالک تو ہم پر بعض پابندیاں بھی عائد ہوں گی۔اور ہم اللہ تعالیٰ کے مال کو جہاں ہم چاہیں گے خرچ نہیں کر سکیں گے۔اس کی دی ہوئی ہدایات کے مطابق ہمیں ان اموال کو خرچ کرنا پڑے گا اسی لئے اللہ تعالیٰ نے سورۃ بلد میں فرمایا۔يَقُولُ أَهْلَكْتُ مَالًا تُبَدًا ( البلد : 4 ) کہ انسان اس پر فخر کرتا ہے کہ اس نے ڈھیروں ڈھیر مال خرچ کر ڈالا اور اس کا خیال ہے کہ مال کو اس قدر فراخ دلی کے ساتھ خرچ کر دینے کی وجہ سے دنیا اسے عزت کی نگاہ سے دیکھے گی اور خدا تعالیٰ کے نزدیک بھی وہ مقبول ہوگا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایسا ہر گز نہیں۔محض مال خرچ کر دینا کوئی خوبی نہیں۔خوبی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایات کے مطابق اور بنی نوع انسان کے مفاد کی خاطر ا سے خرچ کیا جائے۔مال جمع یا خرچ کرنے کے متعلق اسلام کی ہدایات اسلام نے مال جمع کرنے یا خرچ کرنے کے متعلق جو ہدایات دی ہیں۔ان کی دوغرضیں ہیں۔اول یہ کہ سیاسی اور اخلاقی عدم مساوات کا دروازہ بند کیا جائے اور دوم یہ کہ ہر فرد بشر کے لئے