مضامین ناصر — Page 24
۲۴ عَلَيْهِمْ (المنافقون: ۵) ہر آواز جو اٹھائی جائے اسے اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔اگر دو آدمی آپس میں مل کر باتیں کر رہے ہوں تو ان کو شبہ گزرتا ہے کہ یہ انہیں کے خلاف چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔اگران کے کان میں یہ بھنک پڑ جائے کہ امام وقت کے پاس بعض مومنین نے منافقین کی بابت کوئی رپورٹ کی ہے تو ان میں سے ہر ایک یہی سمجھتا ہے کہ بس میرے خلاف سی آئی ڈی چھوڑی ہوئی ہے۔چنانچه منشی فخر الدین صاحب نے بھی اپنے بیان میں کہا۔” پھر مولوی عبد الاحد اور ماسٹر غلام حیدر اور مولوی تاج الدین وغیرہ کا الگ کھڑے ہو کر سر گوشیاں کرنا وغیرہ سب امورا ایسے ہیں جو مجھے اس امر کا باور کرنے کے لئے کافی ہیں۔کہ یہ لوگ سی۔آئی۔ڈی تھے۔صرف یہی نہیں کہ وہ لوگ جاسوس تھے۔بلکہ ان سرگوشیوں سے یہ بھی نتیجہ نکالا کہ یہ جاسوسی بھی اس بات کی کر رہے تھے کہ منشی فخر الدین منافقانہ باتیں تو نہیں کرتا حالانکہ ہی۔آئی۔ڈی اگر ہو بھی تو کئی باتوں کے لئے ہوسکتی ہے۔مثلاً یہ کہ منشی فخر الدین لین دین کے معاملہ میں کیسا ہے۔وغیرہ وغیرہ۔اول یہ بدلنی کہ یہ لوگ جاسوس ہیں پھر یہ بدظنی کہ خلیفہ امسیح علیہا السلام کے مقرر کردہ جاسوس ہیں اور تیسرے یہ بدظنی کہ یہ لوگ منشی فخر الدین وغیرہ کی منافقت“ کی وجہ سے جاسوس مقرر کئے گئے ہیں۔بھلا اگر تم منافق نہیں۔تو ان جاسوسوں - سے تمہیں نقصان کا کیا ڈر ہے۔سچ ہے۔۔جہل کی تاریکیاں اور سوئے ظن کی تند باد جب اکٹھے ہوں تو پھر ایماں اُڑے جیسے غبار ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) تیر ہوئیں علامت تیر ہوئیں علامت جس سے ایک منافق شناخت کیا جا سکتا ہے۔وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔الْمُنْفِقُونَ وَالْمُنْفِقْتُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ (التوبة: ۶۷) یعنی منافقوں کے گروہ ایک دوسرے میں سے ہیں۔اگر کوئی کہے کہ ہمیں کس طرح پتہ لگے کہ ایک شخص جو نظام جماعت کے خلاف آواز اٹھاتا ہے۔وہ ایک نیک نیت راہ گم گشتہ مومن نہیں بلکہ نفاق کے گند میں لتھڑا ہوا منافق ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ فتنہ نیا فتنہ نہیں۔اس سے پہلے بھی نفاق کے فتنے ظاہر ہوتے