مضامین ناصر — Page 233
۲۳۳ اندریں صورت یہ لازم آتا ہے کہ ہم یا تو وقت انتخاب اللہ تعالیٰ کو صفت علیم وخبیر سے عاری مانیں کہ وہ جانتا ہی نہ تھا کہ یہ شخص کسی وقت منصب خلافت کا اہل نہیں رہے گا۔یا ہم اس وقت جب خلیفہ وقت ہماری نظروں میں منصب خلافت کا اہل نہیں رہا، اللہ تعالیٰ کو صفت قدرت سے خالی سمجھیں کہ اس کا منتخب کردہ خلیفہ اپنے منصب کا اہل نہیں رہا۔تاہم وہ اسے عہدہ خلافت سے علیحدہ نہیں کر سکتا اور اپنے مومن بندوں کے گروہ کوفتنہ میں ڈال رہا ہے۔( وَالْعِيَاذُ بِاللهِ ) جب یہ ساری صورتیں کسی نہ کسی خرابی کو مستلزم ہیں تو ماننا پڑے گا کہ یہ صورتیں غلط ہیں اور درست مسئلہ یہی ہے کہ خدا کا مقرر کردہ خلیفہ ساری زندگی تک اس منصب پر سرفراز رہتا ہے۔حقیقت یہی ہے کہ جو شخص خلیفہ النبی کے انتخاب کو اپنا انتخاب سمجھتا ہے وہ تعلیم قرآنی و احکام اسلامی سے بے بہرہ ہے اور جو یہ خیال کرتا ہے کہ جب بھی کوئی گروہ کھڑا ہو کر خلیفہ وقت کو معزول کرنا چاہے ہمیں اس کی آواز پر لبیک کہنی چاہیے اس میں صرف ایمان ہی کی کمی نہیں عقل کی بھی کمی ہے کہ اسلام میں ایسے فتنہ کا دروازہ کھولتا ہے جسے ہماری عقل بھی صحیح تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔(الفرقان ربوہ مئی، جون ۱۹۶۵ ء صفحه ۱۰۰،۹۹) ☆☆