مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 143 of 239

مضامین ناصر — Page 143

۱۴۳ بقیہ دو باب حضور نے بعد میں ایزا د فرمائے۔(۲) اس عرصہ میں دوسرا علمی معجزہ اللہ تعالیٰ نے یہ عطا فر مایا کہ ان مخالف علماء کے مقابلہ میں جو حضور کو جاہل اور کم علم قرار دیتے تھے اور جو کہتے تھے کہ ایسا شخص جو عربی زبان سے نابلد ہے اور قرآنی حقائق و معارف سے بے بہرہ ہے اصلاح خلائق کے لئے کس طرح بھیجا جا سکتا ہے۔خدا تعالیٰ نے جواب دیا کہ میرا یہ بندہ عالم ہے یا جاہل اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ جبکہ میں سب علوم پر حاوی ہوں اور قرآنی علوم کی کنہ کو جاننے والا اور سکھانے والا ہوں۔میں خود اپنے اس بندے کو فصیح و بلیغ عربی بھی سکھاؤں گا اور قرآنی حقائق و معارف بھی بتاؤں گا اور تم اس کا مقابلہ نہیں کر سکو گے۔کیونکہ وہ مجھ سے سیکھتا، مجھ سے بولتا اور مجھ سے لکھتا ہے اور تم محض اپنی ناقص عقلوں سے کام لے رہے ہو۔چنانچہ آپ نے فصیح و بلیغ عربی میں سورۃ فاتحہ کی ایک تغیر لکھی۔جس میں اس سورۃ کے معارف اور حقائق بیان کئے اور اسی سورۃ سے اپنے دعوی کو بھی ثابت کیا۔اس تفسیر کو اعـجـاز المسیح “ کے نام سے ۲۰ فروری ۱۹۰۱ ء کو شائع کیا اور اس کے ٹائٹل پیج پر بڑی تحدی کے ساتھ ساری دنیا کے علماء اور فصحاء کو یہ ایک الہامی چیلنج دیا کہ:۔فَإِنَّهُ كِتَابٌ لَيْسَ لَهُ جَوَابٌ فَمَنْ قَامَ لِلْجَوَابِ وَتَنَمَّرَ فَسَوْفَ يَرَى أَنَّهُ تَنَدَّمَ وَتَدَمَّرَ “ یعنی ”یہ ایسی کتاب ہے کہ کوئی شخص اس کا جواب لکھنے پر قادر نہیں ہو سکے گا اور جس شخص نے بھی اس کتاب کا جواب لکھنے پر کمر باندھی اور تیاری شروع کی وہ 66 سخت نادم اور ذلیل ہوگا“۔حضور علیہ السلام اپنی اس تصنیف کے متعلق فرماتے ہیں:۔میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور میں دعا کی کہ اس کتاب (اعجاز مسیح کو علماء کے لئے معجزہ بنادے اور یہ کہ کوئی ادیب اس کی مثل نہ لا سکے۔اور انہیں اس کے انشاء کی توفیق ہی نہ ملے اور میری دعا اُسی رات خدا تعالیٰ کی جناب میں قبول ہو گئی۔اور میں نے ایک مبشر خواب دیکھی اور میرے رب نے مجھے یہ بشارت دی اور فرمایا۔مَنَعَهُ مَانِعٌ مِّنَ السَّمَاءِ -