مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 129 of 239

مضامین ناصر — Page 129

۱۲۹ جس میں اسے پھینکا جائے گا جو خوب بھڑک رہی ہے اور جس طرح تنور کو چاروں طرف سے بند کر دیا جاتا ہے اور اس کی آگ میں بہت شدت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ دیر تک قائم رہتی ہے یہ آگ بھی اسی طرح ہے۔جس چیز کو تم عارضی طور پر باعث فخر سمجھتے ہو اس کے نتیجے میں تمہارے دلوں میں ایک ایسی آگ جلائی جائے گی جو نہ مٹنے والی ہوگی۔الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْدَةِ۔کے معنی ہیں جو دلوں کے اندر تک پہنچے گی۔اس میں اس طرف اشارہ کیا کہ تم غیبت اور عیب چینی کے مرتکب ہو کر ہمارے بعض مخلص اور مقرب بندوں یا منکسر المزاج بندوں کو طعنے دیتے ہو اور اس طرح ان کے دلوں میں ایک آگ جلانا چاہتے ہو تو یا درکھو اس کے مقابلے میں ہم ایسے حالات پیدا کر دیں گے کہ خود تمہارے اپنے دل میں ایک آگ بھڑک اٹھے گی جو اس قسم کی شدید آگ ہوگی جیسی کہ تنور کے اندر ہوتی ہے اور جو چاروں طرف سے بند ہونے کے باعث خوب شدت کے ساتھ بھڑکتی ہے۔وہ آگ تمہیں چین نہیں لینے دے گی۔چنانچہ دنیا میں ہمارا مشاہدہ یہی ہے کہ حاسد ہمیشہ حسد کی آگ میں جلتے ہیں اور جومحسود ہوں ، جن کی عیب چینی اور غیبت کی جائے وہ عزت پر عزت حاصل کرتے چلے جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں معزز ہی کرتا ہے بشرطیکہ غیبت اور عیب چینی کے مقابلے میں ان کا رد عمل وہ ہو جس کی ان سے اسلام توقع رکھتا ہے۔یہ نہ ہو کہ وہ غیبت کے مقابلے میں غیبت شروع کر دیں اور عیب چینی کے مقابلے میں عیب چینی پر اتر آئیں۔جس قدر ان کی غیبت اور عیب چینی کی جائے اتنے ہی ان کے دل میں خشیت اور تقویٰ کے خیالات پیدا ہوں۔اتنے ہی وہ اپنے غلطی خوردہ بھائی کے لئے ہمدردی کے جذبات رکھتے ہوں۔اس کے لئے دعائیں کرتے ہوں۔علیحدگی میں اس کو سمجھاتے ہوں۔الغرض جو اس کی عزت کو خاک میں ملانے کے درپے ہیں وہ ان کی عزت کے پاسبان ہوں تو پھر اللہ تعالیٰ ایسے محسودلوگوں کی عزت بلند کرتا ہے اور لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت بٹھاتا ہے اور وہ معزز ہی ہوتے چلے جاتے ہیں۔برخلاف اس کے حسد کرنے والے اور غیبت اور عیب چینی کے مرتکب ہونے والے اندر ہی اندر آگ میں سلگتے رہتے ہیں اور وہ آگ بھڑکتی ہی چلی جاتی ہے ختم ہونے میں نہیں آتی۔اس طرح وہ ایک نہ ختم ہونے والی اذیت میں مبتلا رہتے ہیں۔