مضامین ناصر — Page 104
۱۰۴ حاصل تھا کہ جب اس عورت نے وظیفہ دے کر اس کی اعلیٰ پڑھائی کا انتظام کیا اور اُس نے طب کی اعلیٰ ڈگری حاصل کر لی تو بعض فرموں نے اسے اغلبا دس لاکھ ڈالرسالانہ تنخواہ کی پیشکش کی جو ہمارے ملک کے لحاظ سے پنتالیس لاکھ روپیہ سالانہ بنتا ہے۔مگر اس عورت نے اسے لکھا کہ تم اپنے علاقہ میں آجاؤ کیونکہ یہاں اور ڈاکٹر موجود نہیں۔چنانچہ وہ اس پیشکش کو ٹھکرا کر وہاں آگیا۔پھر وہ کوئی بھاری فیس بھی نہیں لیتا تھا۔وہ چھکڑوں پر رات کے بارہ بارہ بجے برف سے ڈھکے ہوئے راستوں پر سفر کر کے مریض کو دیکھنے جاتا اور اس کا علاج کرتا۔جب واپس آتا تو وہ لوگ پانچ سیر گندم یا مکی اس کے چھکڑے میں رکھ دیتے۔یہ وہ فیس تھی جو وہ اپنے علاقہ کے مریضوں سے لیتا اور جس کے مقابلہ پر اس ا نے لاکھوں روپیہ سالانہ کی تنخواہ کی پیشکش ٹھکرا دی۔یہ واقف زندگی نہیں تھا تو اور کیا تھا۔اس طرح کی اور مثالیں بھی مل سکتی ہیں۔پس وقف محض مذہبی ہی نہیں ہوتا بلکہ وہ مذہبی اور دنیوی دونوں قسم کا ہوتا ہے اور واقفین ہر قوم، ہر ملک اور ہر زمانہ میں پائے جاتے ہیں۔اصل میں وقف، زندگی اور حیات کے کامل مظاہرہ کا نام ہے۔جب کسی کی دینی روح عروج اور کمال کو پہنچ جاتی ہے تو وہ دین کا واقف زندگی بن جاتا ہے اور جب اس کی دنیوی روح عروج اور کمال کو پہنچ جاتی ہے تو وہ دنیا کا واقف زندگی بن جاتا ہے۔جب ایک شخص کی قوتوں اور اس کے روپیہ کی اس کی قوم اور ملک کو ضرورت ہو اور وہ اس کی خاطر اپنا ذاتی مفاد ترک کر دے اور اس کی خدمت میں لگ جائے تو یہ اس کی دنیوی روح کے کمال اور عروج کا مظاہر ہوتا ہے اور وہ واقف زندگی کہلاتا ہے اور جب اس میں دین کی روح اپنے کمال اور عروج کو پہنچ جاتی ہے اور وہ دین کی خاطر اپنا ذاتی مفاد ترک کر دیتا ہے تو وہ روحانی واقف زندگی بن جاتا ہے۔وقف کی روح اور زندگی کو جماعت میں قائم رکھنے کے لئے جماعت کے افراد کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لئے پیش کرنا چاہیے۔چاہے وہ مرکزی ہدایات کے ماتحت کام کرنے کے اہل نہ بھی ہوں اور وہ یہاں رہ کر کام نہ بھی کر سکیں۔لیکن جماعت میں اس قسم کا ذہنی