مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 98 of 239

مضامین ناصر — Page 98

۹۸ اے دانشمند و! تم اس سے تعجب مت کرو کہ خدا تعالیٰ نے اس ضرورت کے وقت میں اور اس گہری تاریکی کے دنوں میں ایک آسمانی روشنی نازل کی اور ایک بندہ کو مصلحت عام کے لئے خاص کر کے بغرض اعلاء کلمہ اسلام واشاعتِ نور حضرت خیر الا نام اور تائید بھیجا۔مسلمانوں کے لئے اور نیز ان کی اندرونی حالت کے صاف کرنے کے ارادہ سے دنیا میں فتح اسلام صفحہ ۲ تا ۷۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳ تا ۶ ) اس کے علاوہ تذکرہ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات کا مجموعہ ) پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کے اداروں کو بعض اصولوں پر قائم کیا ہے۔مثلاً آپ کا ایک الہام ہے۔أَنْتَ مَدِينَةُ الْعِلْمِ مَقْبُولُ الرَّحْمَنِ “۔(صفحہ ۳۶۸) یعنی تو علم کا شہر ہے، پاک اور خدا تعالیٰ کا مقبول ہے۔قرآنی محاورہ کے مطابق اس الہام کی متعدد تشریحات ہوسکتی ہیں۔کیونکہ کلام الہی میں یہ خصوصیت پائی جاتی ہے کہ وہ ہر موقع کے مطابق ایک نیا مفہوم پیدا کرتا ہے۔مثلاً قرآنی محاورہ کے مطابق اس کے ایک معنی یہ ہو سکتے ہیں کہ اَنتَ صَاحِبُ مَدِينَةِ الْعِلْمِ کہ آپ علوم کے دارالخلافہ کے شہنشاہ اور ان علوم کے منبع اور مبدء ہیں جنہیں جماعت احمد یہ جاری کرنا چاہتی ہے۔ان علوم میں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ قائم کی گئی یو نیورسٹی اور دارالعلوم میں سکھائے جائیں گے یہ خصوصیت پائی جاتی ہے کہ شعراء اس کے پاس بھی نہیں پھٹکتے جیسے آپ کا ایک الہام ہے کہ در کلام تو چیزیست که شعراء را در آن دخلی نیست “۔اسی طرح آپ کا ایک الہام ہے رَبِّ عَلِمُنِي مَا هُوَ خَيْرٌ عِندَكَ “ کہ اے اللہ! تو مجھے وہ کچھ سکھا جو تیرے نزدیک میرے لئے بہتر ہے۔66 دنیا میں بعض علوم ایسے بھی ہیں جو انسان کے لئے بابرکت نہیں ہوتے یا اُسے اُن کی ضرورت نہیں ہوتی۔مثلاً بعض علوم محض فلسفیانہ مباحث ہیں یا ایسے نظریات ہیں جو ہر وقت بدلتے رہتے ہیں۔اگر کسی علم کے چند ماہرین پائے جاتے ہیں تو ان میں سے نہ صرف ہر ایک کے نظریات مختلف ہوں