مضامین ناصر — Page 89
۸۹ حفاظت اور نگرانی کے کام پر لگایا جا سکے۔مگر یہ شرط ہوگی کہ کوئی احمدی خادم ایسا نہ ہو جو پانچ سال پہلے کا احمدی نہ ہو یا کسی احمدی کی نسل میں سے نہ ہو۔اور پھر اس کی سفارش جماعت کا پریذیڈنٹ کرے اور لکھے کہ یہ شخص اعتماد کے قابل ہے۔اسے حفاظت کے کام پر لگایا جائے۔اس غرض کے لئے کم سے کم پانچ سوالنٹیر ربوہ کا اور بیرونی جماعتوں کا ہونا چاہیے اڑھائی سو خدام کراچی راولپنڈی لاہور ملتان پشاور سیالکوٹ، شیخوپورہ منٹگمری، گوجرانوالہ گجرات اور دوسری جماعتیں پیش کریں۔۔میں اس موقع پر خدام الاحمدیہ کو بھی تحریک کرتا ہوں کہ وہ اپنے نام بطور والنٹیئر ز دفتر خدام میں بھجوا دیں۔اور یہاں کے خدام کو چاہیے کہ وہ خود اپنے آپ کو حفاظت اور پہرہ کے لئے پیش کریں۔یا درکھنا چاہیے کہ ان خدام کو ڈبل کام کرنا پڑے گا۔۔پس ایسے ہی نوجوان اپنے آپ کو پیش کریں جو ہمت والے ہوں۔محنتی اور مستعد ہوں اور جوان دنوں جلسہ گاہ اور سڑکوں پر پہرہ بھی دیں اور مہمان نوازی کے فرائض بھی سرانجام دیں۔تین چار دن انہیں کام کرنا پڑے گا اور یہ کوئی زیادہ عرصہ نہیں۔اتنے دن اگر انسان کو چوبیس گھنٹے بھی جاگنا پڑے تو وہ جاگ سکتا ہے۔بہر حال میں سمجھتا ہوں کہ کام کو پورے طور پر چلانے کے لئے پانچ سو والنٹیئرز ضروری ہیں۔۔۔اگر کوئی چھوٹی جماعت پانچ خدام پیش کر سکتی ہے تو وہ پانچ آدمی پیش کر دے۔اگر کوئی دس خدام پیش کر سکتی ہے تو وہ دس پیش کر دے۔ان کا کام حفاظت اور نگرانی اور پہرہ کی ڈیوٹی ادا کرنا اور مہمانوں کی خدمت کرنا ہوگا۔۔باہر کی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اپنے خدام کی تعداد سے دفتر مرکزیہ کو اطلاع دیں۔کیونکہ وقت بہت تھوڑا رہ گیا ہے۔مگر آدمی وہی ہوں جو کم سے کم پانچ سالہ احمدی ہوں یا نسلی احمدی ہوں اور جن کے متعلق پریذیڈنٹ، سیکرٹری اور زعیم تینوں اس بات کی تصدیق کریں کہ وہ ہر قسم کی قربانی اور محنت سے کام لیں گے اور کسی قسم کی غفلت ستی یا غداری کا ارتکاب نہیں کریں گے۔“ روزنامه الفضل لاہور ۲۱ / دسمبر ۱۹۵۱ء صفحه ۲)