مضامین ناصر — Page 67
۶۷ روبل دوآنہ کے برابر ہو تو ہمارا یہ فیصلہ روس کے حق میں ہی ہوگا۔اس لحاظ سے اگر ایک روسی مزدور کی اوسط تنخواه ۲۵۰ روبل تسلیم کی جائے۔تو قوت خرید کے لحاظ سے اس کی تنخواہ انداز اکتیس روپے بنتی ہے۔یعنی وہ ۲۵۰ روبل سے اتنا ہی آٹا، گھی ، گوشت ، کپڑا وغیرہ خرید سکتا ہے۔جتنا کہ ہم ہندوستان میں اکتیس روپے میں خرید سکتے ہیں۔اس سے عیاں ہے کہ حکومت مزدوروں کے قیام کے باوجو دروس کے مزدور کی اقتصادی حالت کچھ زیادہ خوشکن نہیں۔چند شہادات ہمارا یہ بیان محض خیالات پر مبنی نہیں۔اس کی بنیاد ان حقائق پر ہے۔جو خود روسی افسروں اور روس سے اچھی واقفیت رکھنے والوں نے دنیا پر ظاہر کئے ہیں۔چنانچہ مذکورہ نرخوں کا بیان سر والٹر شرین کی کتاب I search for the truth in Russia سے لیا گیا ہے۔اقتصادی مساوات کو بھی قائم نہیں کیا۔۱۹۱۷ء میں لینن نے اعلان کیا تھا کہ بڑے سے بڑے افسروں کی تنخواہیں بھی ایک اچھے مزدور کی اوسط تنخواہ سے بڑھنی نہیں چاہئیں۔(پراودا ۲۰ را پریل ۱۹۱۷ء)F۔Broekway workers front کے صفحہ ۲۵ پر لکھتا ہے کہ روس میں بھی جہاں ۱۹۱۷ء میں جماعت مزدوراں نے شاندار اقتدار حاصل کیا آمد میں روز افزوں تفریق اور حق ورثہ کا نئے سرے سے اجراء یہ واضح کرتا ہے کہ روسی اشتراکیت اشترا کی سماج کی وحدت سے (جس میں فرقے اور فرقہ وارا نہ جھگڑے نہیں ہیں)۔رجعت قہقری کرتے ہوئے سرمایہ داری کی طرف جارہی ہے۔کامریڈ Goon اپنی کتاب کے صفحہ ۲۶،۲۵ پر لکھتا ہے کہ ”عام مزدوروں کی تنخواہ ۸۰ سے ۴۰۰ روبل تک۔نولڑ کیوں کی تنخواہ پچاس سے ساٹھ روبل تک۔اور مکان اچھے کاریگروں کی تنخواہ تین سو سے آٹھ سو روبل تک۔ماہرین فن اور ذمہ دار جگہوں پر کام کرنے والے افسروں کی تنخواہ بیس ہزار سے تہیں ہزار روبل تک ہے۔اسی طرح وہ کہتا ہے کہ مزدوروں کی پنشن ۲۵ سے ۸۰ روبل تک اور بڑے افسروں کی بیواؤں کی