مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 63 of 239

مضامین ناصر — Page 63

۶۳ یہ اعلان کیا کہ کوئی شخص بھی اس میں شک نہیں کر سکتا کہ اشترا کی تمدن میں نظام زر نہیں رہے گا۔اس کا استعمال کلی طور پر مفقود ہو جائے گا۔ہم بے زرا قتصادیات کا ایک نیا ورق الٹیں گے۔۱۹۲۰ء اور ۱۹۲۱ میں روسی اشتراکیت نے بہت سے نئے قوانین بنائے۔کام کی پیمائش کا نیا پیمانہ ایجاد کیا گیا۔اور اس کا نام Tred رکھا گیا۔جو ایک دن کی اوسط درجہ کی محنت کے برابر ہے۔بعد میں سٹالن نے ہر دو کوقتل کروا دیا۔Tred لا پتہ ہو گیا اور نظام زرواپس آگیا اور V۔I۔Maghaluk جنوری ۱۹۳۶ء میں بڑے فخر سے بیان کیا۔کہ پرچی کے طریق اور اجناس کی شکل میں مزدوری ادا کرنے کے رواج کو اڑا دینے سے ہمارا سکہ روبل اشترا کی اصول پر مزدوری ادا کرنے کا واحد ذریعہ بن گیا ہے۔نیز یہ کہ اس طرح ہم اشترا کی تمدن کی خوشنما اور سہانی صبح کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں۔آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جس چیز کو ابتداء میں جب مارکس کے نظریوں کی برائی میدان عمل میں واضح نہیں ہوئی تھی۔اور اس کے نظرئیے روسی حاکموں کے دماغ پر حاوی تھے۔اشترا کی اقتصادیات کے لئے ضروری قرار دیا جاتا تھا۔جس کے بغیر اقتصادی مساوات کا حصول ممکن نہیں۔اس کو چھوڑ کر اور اس کی بجائے سرمایہ داری کے نظام زرکو قبول کر کے اس پر یہ فخر کرنا کہ اس طرح ہم اشتراکیت کی روشن صبح کے قریب سے قریب تر ہوتے جا رہے ہیں۔حیا کی کس قدر کمی پر دلالت کرتا ہے۔(۷) شخصی ملکیت اشتراکیت شخصی ملکیت کا حق تسلیم نہیں کرتی۔مارکس اور Engels کمیونسٹ مینوفیسٹو میں لکھتے ہیں کہ اس لحاظ سے اشترا کی نظرئیے کا خلاصہ ایک فقرہ میں بیان کیا جاسکتا ہے وہ یہ کہ انفرادی ملکیت کو اڑا دیا جائے۔(36 A Kind book of Marxism page ) اسی میں آگے چل کر وہ لکھتے ہیں کہ خلاصہ یہ کہ تم ہمیں اس بات پر ملامت کرتے ہو کہ ہم تمہاری ملکیت اڑانا چاہتے ہیں۔یقیناً ہم یہی کرنا چاہتے ہیں۔40 A Kind book of Marxism page ) غالبا یہ اس