مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 56 of 239

مضامین ناصر — Page 56

اندھیر نگری پھیل گئی۔امیر نے غریب کا خون چوسنا شروع کر دیا۔طاقتور کمزور کو کچلنے کے درپے ہوا۔بڑوں نے چھوٹوں پر مظالم ڈھائے جسے بھی موقعہ ہاتھ آیا اس نے اپنے بھائی کو اپنا غلام بنایا۔جب یہ مظالم اپنی انتہاء کو پہنچے تو بعض رحم دل لوگوں نے ایسی دنیوی تحریکات شروع کیں جن کا مقصد دنیا سے اقتصادی ظلم کو مٹانا تھا مگر جن کا طریق کا رخوداپنے اندر ہزاروں برائیاں اور خرابیاں لئے ہوئے تھا۔انہیں تحریکات میں سے ایک تحریک اشتراکیت یعنی کمیونزم بھی ہے جو ایک تمدنی نظام ہونے کے لحاظ سے ابتدائے دنیا سے چلی آتی ہے۔چنانچہ Therapentea اور The cssenes اسی نظام کے پابند تھے۔یونان میں ارسطو اور افلاطون اس نظریہ کے مؤید ر ہے ہیں۔نیا نبی ڈکشنری آف سوشلزم تصنیف ڈاکٹر اے ایس راپورپورٹ ) اشتراکیت اور اسی قسم کی دوسری تحریکیں فیج اعوج یعنی بعد نبوت کے زمانہ میں پیدا ہوتی اور اسی میں پنپتی ہیں۔بظاہر ان کا مقصد اقتصادی مساوات کا قیام ہے۔مگر چونکہ لامذہبیت کی بنیادوں پر ایک غیر فطری عمارت کھڑا کرنا چاہتی ہیں اس لئے خدا تعالیٰ کو یہ محبوب نہیں اس لئے جب ایک طرف بندگان خدا پر مظالم اپنی انتہا کو پہنچتے ہیں۔اور دوسری طرف شیطان ایسی تحریکات کے ذریعہ لامذہبیت کی رو پیدا کرتا ہے تو خدا تعالیٰ کا رحم جوش میں آتا ہے اور اس کی طرف سے ایک نیا نبی دنیا کی طرف مبعوث کیا جاتا ہے۔جو حقیقی اقتصادی نظام کو قائم کر کے بنی نوع انسان کے باہمی تعلقات کو پھر سے عدل وانصاف پر قائم کرتا ہے اور اس دنیوی جنت میں گزار کر انہیں اخروی جنت کی طرف لے جاتا ہے۔اشتراکیت صبح کا ذب ہے جو صبح صادق کے آنے کی خوشخبری دیتی ہے۔یہ وہ جھوٹا عدل وانصاف ہے جو حقیقی عدل و انصاف کی طرف اشارہ کر رہا ہوتا ہے۔اور جوں جوں نور نبوت زور پکڑتا جاتا ہے۔اشتراکیت ایسی تحریک اپنے ہی اندھیروں میں غائب ہو کر بعد نبوت کا انتظار کرتی ہے۔(اس طرح وہ ایک رنگ میں گویا ارہاص یعنی رستہ کا نشان بھی ہوتی ہے۔جو اصل منزل کا پتہ دیتا ہے۔)