مضامین ناصر — Page 44
۴۴ سے سوال کیا گیا کہ سب سے افضل انسان کون ہے؟ آپ نے فرمایا جو نیکیوں پر سب سے زیادہ تحریص دلانے والا ہو اور بدیوں سے سب سے زیادہ روکنے والا ہو اور پھر ساتھ اس کے وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو بھی سب سے زیادہ ادا کرنے والا ہو۔یعنی جو شخص مجاہدہ نفس میں دوسرے لوگوں پر فوقیت لے گیا اور پھر فریضہ تبلیغ کے ادا کرنے میں بھی وہ سب سے آگے رہا یہ وہ شخص ہے جو سب لوگوں سے زیادہ افضل ہے۔اور محض جہاد کبیر کے دائرہ کے اندر وہ شخص سب سے زیادہ افضل ہوگا جو اس جہاد میں اپنے نفس و مال کو قربان کرتا ہے۔حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا - أَلَا إِنَّ أَفْضَلَ الْجِهَادِ كَلِمَةُ حَقَّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَابِرٍ ( مسند احمد بن حنبل جلد ثالث صفحہ ۱۹) دیکھو سب سے بڑا جہا دایک جابر اور ظالم بادشاہ کو حق کی بات پہنچانا ہے۔انسان جب جنگ میں جاتا ہے تو امید ہوتی ہے کہ وہاں سے بیچ کر واپس لوٹے گا، اس کا مال وغیرہ تو گھر میں محفوظ ہی ہوتا ہے۔مگر جابر اور ظالم بادشاہ کے پاس کچی کچی باتیں کہنے والے کا غالب گمان یہ ہوتا ہے کہ وہ بھی مارا جائے گا اور اس کا خاندان بھی تباہ ہوگا ، اس کی جائیداد بھی غصب کر لی جائے گی۔اشاعت حق میں اس قدر قربانی کرنے والا یقینا دوسرے مبلغین پر فوقیت رکھتا ہے پس یہ حدیث حضرت عائشہ والی حدیث کے خلاف نہ ہوئی جس میں حج مبرور کو افضل الجہاد کہا گیا تھا۔وہاں مجاہدہ نفس کے متعلق بات ہورہی تھی یہاں اشاعت حق کا ذکر ہے۔اس وقت تک مجاہدہ نفس، اشاعت اسلام اور ان کے احکام کے متعلق ذکر ہوا ہے۔اسلام نے جہاد کو نفس سے شروع کیا ہے اور پھر اسے طبعی اور فطرتی پھیلاؤ دیا ہے۔پہلے اپنے نفسوں کی درستی کرو پھر غیروں کے نفسوں کی درستی کی طرف متوجہ ہو۔ان کے سامنے پیش کیا کرنا ہے؟ اپنا نمونہ اور قرآنی دلائل، اپنا نمونہ اور قرآنی دلائل پیش کیسے کرتے ہیں؟ حکمت اور نرمی سے۔اگر دشمن حکمت کی باتوں کی قدر نہ کرے اور نرمی سے فائدہ نہ اٹھائے تو ؟ پھر بھی دین میں جبر نہیں کرنا۔کہ اوّل اس کی ضرورت نہیں، دوم اس سے خدا تعالیٰ کی ذات پر الزام آئے گا کہ اس نے اسلامی فطرت کو آزاد بنانے میں غلطی کھائی۔سوم ایمان دل میں پیدا ہوتا ہے اور دلوں پر جر ممکن نہیں۔لیکن اگر دشمن لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ کو