مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 30 of 239

مضامین ناصر — Page 30

حقیقت جہاد سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الثالث اید اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ستائیس برس پہلے کا ایک قیمتی مقالہ (ادارہ) اب تک جہاد پر جو مضامین لکھے گئے ہیں ان میں صرف یہ بحثیں ہوتی رہی ہیں کہ جہاد بالسیف کب اور کن شرائط کے ماتحت جائز ہے اور یہ کہ اشاعت اسلام کے لئے تلوار چلانے کی اجازت نہیں دی گئی اور بس۔میں نے یہ راستہ نہیں لیا۔میرے نزدیک بجائے اس بات پر زور دینے کے کہ جہاد بالسیف کب اور کیوں جائز ہے زیادہ زور اس بات پر دینا چاہیے کہ اسلام میں جہاد کے معنی کیا ہیں اور اشاعت اسلام کے متعلق قرآن کریم نے کیا احکام بتائے ہیں؟ جب ہم اشاعت دین کے متعلق اسلامی تعلیم لوگوں کے ذہنوں میں اچھی طرح راسخ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے تو یہ مسئلہ خود بخود حل ہو جائے گا کہ اسلام نے اشاعت دین کے ہتھیاروں میں تلوار کو نہیں رکھا، اس کا استعمال اور ہے اور یہ اپنے محل پر ہی استعمال ہونی چاہیے۔پس میں اس مختصر سے نوٹ میں یہ بتاؤں گا کہ جہاد کے معنے لغت میں اپنی پوری طاقت خرچ کرنا ہے اور اسلامی اصطلاح میں جہاد کے معنے ہیں نفسِ امارہ ، شیطان ، اور دشمن آزادی مذہب کے خلاف تمام طاقتوں کو لگانا۔اسلام میں جہاد نفس سے شروع ہوتا اور شیطان پر ختم ہوتا ہے۔شیطان کے خلاف جہاد کرنے کے دوران میں بعض ایسی صورتیں پیدا ہو جاتی ہیں کہ مجبوراً تلوار چلانی پڑتی ہے اور اس لئے چلانی پڑتی ہے کہ مکمل مذہبی آزادی کو دنیا میں قائم کیا جائے۔تا جو شخص بھی مسلمان ہو وہ صرف اس لئے مسلمان ہو کر اسلام کی حقانیت اس پر کھل گئی ہے۔نہ اس لئے کہ اسلام کا نام زبان پر لائے بغیر اسے چارہ نہیں۔میں نے اشاعت مذہب کے مسئلہ پر نسبتاً بسيط بحث کی ہے اور بتایا ہے کہ اشاعت اسلام کرتے ہوئے مخالفین کے سامنے صرف دو چیزوں کو پیش کرنا جائز ہے، قرآنی نمونہ اور