مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 28 of 239

مضامین ناصر — Page 28

۲۸ کی علیحدہ مسجد یا کلب بنانے سے چوتھی غرض منافقین کی یہ ہوتی ہے۔یا یوں کہو کہ منافقین کی چوتھی قسم کے کام یہ ہوتے ہیں کہ وہ ہر طریقے سے ان دشمنوں سے ساز باز کرتے ہیں۔جو پہلے سے جماعت مسلمین کی مخالفت پر کھڑے ہوتے ہیں اور اس طرح دشمنان دین کی طاقت کا موجب ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ يَحْسَبُونَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ (المنافقون: ۵) کے وہ مصداق ہو جاتے ہیں یعنی ہر دھمکی اور جنگ کے اعلان کو وہ اپنے خلاف سمجھتے ہیں نیز یہی وجہ ہے کہ منافق جہاد میں ستی دکھاتا ہے۔ان چار الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کی علامات اور ان کے کاموں کا اجمال کے ساتھ نقشہ کھینچ دیا ہے پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ باوجود ان تمام باتوں کے تم منافقین کو ہمیشہ قسمیہ کہتے سنو گے کہ ہمارا تو جماعت کی خیر خواہی سے مطلب ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس دیدہ دلیری کا اور کیا جواب ہوسکتا ہے۔سوائے اس کے کہ خدا گواہی دیتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں اور واقعات بتا دیں گے کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔عجیب بات ہے کہ مصری صاحب نے بھی یہی دعویٰ کیا ہے کہ إِنْ أَرَدْنَا إِلَّا الْحُسْنَیٰ یعنی ان کی آنکھیں نبی کی جماعت میں بگاڑ ہی بگاڑ دیکھتی ہیں۔اور اپنے نفس میں اصلاح ہی اصلاحپاتی ہیں۔چنانچہ ایک اشتہار میں وہ لکھتے ہیں۔جماعت کے اندر ایک بہت بڑا بگاڑ مشاہدہ کر کے جو بہت سے لوگوں کو دہریت کی طرف لے جاچکا ہے اور بہتوں کو لے جانے والا ہے۔اس کی اصلاح کی ضرورت محسوس کر کے بلکہ اس کو ضروری جان کر اٹھایا ہے۔“ ہمارا جواب یہ ہے کہ اگر ان کی حالت ( الفضل ۳ جولائی ۱۹۳۷ء) عے شائد تمہارے فہم کا ہی کچھ قصور ہو“ کی مصداق نہیں تو پھر۔وَ اللهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكُذِبُونَ (الحشر: ١٢) خدا کی گواہی یہ ہے کہ یہ لوگ جھوٹے اور کذاب ہیں۔