مضامین ناصر — Page 142
۱۴۲ گزری تھی کہ کبھی آپ کو عربی بولنے کی مشق کا موقعہ نہ ملا تھا ) ارشاد فرمایا کہ عربی میں تقریر کرو۔خدا تعالیٰ نے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کے بھی دل میں ڈالا کہ حضور سے عرض کریں کہ حضور عید الاضحیٰ کے موقعہ پر تقریر فرماویں۔حضور نے یہ عرض قبول کی اور فرمایا کہ مجھے عربی میں تقریر کرنے کا حکم ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ دیا ہے کہ عربی کی اس تقریر میں خدا تعالیٰ کی طرف سے فصاحت بخشی گئی ہے اور یہ ایک ایسا کلام ہوگا کہ انسانی فصاحت اس کا مقابلہ نہ کر سکے گی۔کیونکہ خدا نے فرمایا که كَلامٌ أَفْصِحَتْ مِنْ لَّدُنُ رَبِّ كَرِيمٍ آپ کی دعا کے مطابق اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ ایک ایسا علمی معجزہ عطا فر مایا کہ کوئی اس کی نظیر پیش نہیں کر سکتا۔حضور فرماتے ہیں: تب میں عید کی نماز کے بعد عید کا خطبہ عربی زبان میں پڑھنے کے لئے کھڑا ہو گیا اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ غیب سے مجھے ایک قوت دی گئی اور وہ فصیح تقریر عربی میں فی البدیہہ میرے منہ سے نکل رہی تھی کہ میری طاقت سے بالکل باہر تھی اور میں نہیں خیال کر سکتا کہ ایسی تقریر جس کی ضخامت کئی جزو تک تھی۔ایسی فصاحت و بلاغت کے ساتھ بغیر اس کے کہ اول کسی کاغذ میں قلمبند کی جائے کوئی شخص دنیا میں بغیر الہام الہی کے بیان کر سکے۔جس وقت یہ عربی تقریر جس کا نام ”خطبہ الہامیہ رکھا گیا لوگوں میں سنائی گئی اس وقت حاضرین کی تعداد شاید دوسو کے قریب ہوگی۔سبحان اللہ اُس وقت ایک غیبی چشمہ نکل رہا تھا۔مجھے معلوم نہیں کہ میں بول رہا تھا یا میری زبان سے کوئی فرشتہ کلام کر رہا تھا۔کیونکہ میں جانتا تھا کہ اس کلام میں میرا دخل نہ تھا۔خود بخود بنے ہوئے فقرے میرے منہ سے نکلتے جاتے تھے۔اور ہر ایک فقرہ میرے لئے ایک نشان تھا۔۔۔۔یہ ایک علمی معجزہ ہے جو خدا نے دکھلایا اور کوئی اس کی نظیر پیش نہیں کر سکتا“۔(حقیقۃ الوحی صفحه ۳۶۲-۳۶۳۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۷۶) خطبہ الہامیہ جو کتابی صورت میں چھپا ہوا ہے اس کا پہلا باب یعنی پہلے ۳۸ صفح الہامی ہیں۔