مضامین ناصر — Page 141
۱۴۱ اواخر ۱۸۹۹ء کے بعد تین سال کے اندر ظاہر ہونے والے نشانات خدائے ذوالجلال قادر وقدوس حتی وقیوم نے اپنے بندے کی تضرعات کو سنا اور اس کی دعاؤں کو بپا یہ قبولیت جگہ بخشی اور اس تین سال کے عرصہ میں جو یکم جنوری ۱۹۰۰ء سے شروع ہو کر ۳۱ دسمبر ۱۹۰۲ء کو ختم ہوتا ہے اپنے عاشق محمد ﷺ کے فدائی اور اسلام کے سچے خادم کی صداقت پر گواہی دینے کے لئے ایک نہیں بلکہ بیسیوں ایسے نشان دکھلائے جو انسانی ہاتھ سے بالا تھے اور جن کی نظیر کوئی انسان پیش نہیں کرسکتا۔ان سب نشانات کا ذکر اس مختصر سے نوٹ میں نہیں کیا جاسکتا۔تفصیل کے لئے دوست حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان تین سالوں کے الہامات کا مطالعہ کریں اور جو اشتہارات اور کتب اس زمانہ میں آپ نے لکھیں اور جو کلمات طیبہ اس تین سال کے عرصہ میں آپ کی زبانِ مبارک سے نکلے ان کو تدبر سے پڑھیں۔اس مختصر سے نوٹ میں میں صرف چند ایک نشانات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو اس قدرشان و شوکت کے حامل اور خدائے قادر کی قدرتوں کو اس طور پر ظاہر کرنے والے ہیں کہ ان میں سے ایک ایک نشان کسی مدعی کی صداقت کے لئے کافی وشافی ہے، اگر آنکھ بلینا اور دل نور روحانیت سے منو رہو۔(۱) اراپریل ۱۹۰۰ء عیدالاضحی کا دن تھا دو ایک روز قبل سے ہی حضور علیہ السلام خاص دعاؤں اور خصوصی مجاہدہ میں مشغول تھے کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو (جو ایک گاؤں کے رہنے والے تھے جس کے ماحول میں عربی تو کجا اردو زبان بھی بولی اور کبھی نہ جاتی تھی۔آپ کی ساری عمر ایسے حالات میں سے