مضامین ناصر — Page 128
۱۲۸ ہے اور پھر بھی فخر کرنے لگ جاتا ہے کہ میرے پاس بڑا مال ہے اور میں بڑا امیر کبیر ہوں۔حالانکہ اگر اس کی طبیعت میں غرباء اور یتامیٰ اور مساکین کا درد ہوتا، اور وہ اپنے مال میں سے ان کا حق نکال کر انہیں دیتا تو اس کے لئے فخر کا کوئی موقع ہی نہ پیدا ہوتا اور یہ نکتہ اس کی سمجھ میں آجاتا کہ خدا تعالیٰ نے یہ مال مجھے اس لئے دیا ہے کہ میں کچھ نیکیاں کماؤں اور اس طرح اگلے جہان کے لئے کچھ زاد راہ فراہم کروں لیکن اس نے یہ نکتہ نہیں سمجھا اور ایسا مال جمع کیا جو فتیح تھا اور سراسر حرام۔اس پر بھی اس کی یہ حالت ہے کہ فخر کی وجہ سے ہمارے بندوں سے اپنے آپ کو فائق سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ تم میرے مقابلے میں ذلیل ہو۔عربی زبان میں تنوین کے تیسرے معنی تعظیم کے ہیں۔سو اس آیت میں تعظیم کا مفہوم حرام مال جمع کرنے والے کے اپنے نقطہ نگاہ سے ہے، اس لحاظ سے آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ ایک شخص جو بہت سا مال جمع کرتا ہے بیوقوفی سے اپنے آپ کو بڑا آدمی سمجھتا ہے۔اس کی نگاہ اس طرف نہیں جاتی کہ یہ حرام کا مال ہے اس میں سے دوسروں کا حق ادا نہیں ہوا۔وہ اس طرف بھی دھیان نہیں دیتا کہ آخرت کے مقابلے میں یہ بہت ہی قلیل ہے۔برخلاف اس کے وہ اسی خیال میں مگن ہے کہ یہ لاکھ یا دو لاکھ روپے بہت بڑے سرمایہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔یہ میرے کام آئے گا اور میں اس سے خوب فائدہ اٹھاؤں گا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے ہو گالا کھ دولاکھ روپیہ بڑا لیکن کیا تم اس دنیا میں ہی نہیں دیکھتے کہ آج جو امیر ہے کل وہ دیوالیہ ہو جاتا ہے تو جس چیز کے متعلق یقینی او حتمی طور پر یہ کہا ہی نہیں جاسکتا کہ وہ ہمارے کام آئے گی اس پر فخر کرنے کا کیا مطلب !! آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَحْسَبُ اَنَّ مَالَةَ اخْلَدَہ کیا اس کو یہ گمان ہے کہ اس کا مال اس کے لئے اور اس کے خاندان کے لئے دائمی زندگی اور دائمی راحت کا موجب ہوگا۔فرماتا ہے گلا نہیں ایسا ہر گز نہیں ہوگا۔لَيُنْبَذَنَّ فِي الْحُطَمَةِ وہ حُطَمَة میں گرایا جائے گا۔وَمَا أَدْريكَ مَا الْحُطَمَة خدا تعالیٰ کہتا ہے ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ حُطَمَة سے مراد کیا ہے؟ نَارُ اللَّهِ الْمُوْقَدَةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْدَةِ - إِنَّهَا عَلَيْهِمْ مُّؤْصَدَةٌ - يہ حُطَمَة خدا تعالیٰ کی جلائی ہوئی آگ ہے